کاروار، 19/اکتوبر (ایس او نیوز) نوجوان نسل اور ملک کے مستقبل کو تباہ کرنے والی منشیات کے خلاف بیداری پیدا کرنا اور اس کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر دلیش ششی نے کیا۔
وہ پیر کو کاروار کے رابندر ناتھ ٹیگور ساحل پر واقع میور ورما اسٹیج پر منشیات سے پاک ہندوستان کے پیغام کو عام کرنے کے لیے نکالی گئی قومی اتحاد پریڈ اور موٹر سائیکل ریلی 2026 کے شرکاء کا استقبال کرنے کے بعد منعقدہ پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے خطاب کر رہے تھے۔
ڈاکٹر دلیش ششی نے کہا کہ ’ون نیشن، ون رائیڈ، ڈرگس فری انڈیا‘ مہم کے تحت کیرالا، لکشدیپ، کرناٹک سمیت مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے موٹر سائیکل ریلی نکالی جا رہی ہے۔ اس مہم کے ذریعے عوام میں منشیات کے مضر اثرات کے تعلق سے بیداری پیدا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکولوں، کالجوں اور دفاتر میں بھی مختلف پروگراموں کے ذریعے سماج کو منشیات کے خطرات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
کرناٹک اسٹیٹ ریزرو پولیس (کے ایس آر پی) کے ڈپٹی کمانڈنٹ چندرشیکھر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سال 2030 تک ہندوستان کو منشیات سے پاک بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں منشیات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے اور اسکولوں و کالجوں کے طلبہ، نوجوانوں حتیٰ کہ گھریلو خواتین بھی اس کے مضر اثرات کا شکار ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کی لت صرف کسی ایک فرد کے مستقبل کو ہی تباہ نہیں کرتی بلکہ اس سے خاندان کا سکون اور ملک کا مستقبل بھی متاثر ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین، اساتذہ اور سماج کے ہر فرد کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
چندرشیکھر نے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ دوستوں کے دباؤ میں آکر شراب، سگریٹ یا دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنا بہادری یا جرأت کی علامت نہیں ہے۔ ایسی چیزیں ابتدا میں وقتی خوشی کا احساس دلاتی ہیں، لیکن رفتہ رفتہ انسان کو نشے کی لت میں مبتلا کرکے اس کی تعلیم، روزگار، خاندانی زندگی اور ذاتی مستقبل کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو ایسے لالچ اور دباؤ سے دور رہتے ہوئے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص کسی کو منشیات استعمال کرنے پر مجبور کرے یا نشہ آور اشیاء فراہم کرنے کی کوشش کرے تو اسے سختی سے انکار کرنا چاہیے۔ اسی طرح اسکولوں، کالجوں یا اپنے آس پاس کے علاقوں میں منشیات کی فروخت یا سپلائی کا علم ہونے پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دینی چاہیے۔ عوام کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کئی خاندانوں کو نشے کے تباہ کن اثرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے مضر اثرات کے تعلق سے عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ملک گیر سطح پر یہ موٹر سائیکل ریلی منعقد کی جا رہی ہے۔ 16 اکتوبر کو شروع ہونے والی یہ بیداری ریلی پیر کے روز کاروار پہنچی۔ لکشدیپ اور کیرالہ کی پولیس ٹیمیں پہلے ہی اس مہم میں شامل ہوچکی ہیں، جبکہ حیدرآباد، تلنگانہ، مہاراشٹر اور تمل ناڈو کے علاقوں سے بھی پولیس ٹیمیں اس میں حصہ لے رہی ہیں۔
چندرشیکھر نے کہا کہ ریلی کے ذریعے اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے ساتھ عام لوگوں کو بھی منشیات کے خطرات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اس لعنت کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لیے عوام کا تعاون انتہائی ضروری ہے اور بیداری و احتیاط کے ذریعے منشیات کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپن ایم این نے اپنے خطاب میں منشیات کو سماج کے لیے کینسر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ تجسس یا مہم جوئی کے جذبے کے تحت محض ایک مرتبہ منشیات آزمانے کی خواہش بھی نوجوانوں کو نشے کی دلدل میں دھکیل سکتی ہے۔ منشیات کی لت انسان کی قوتِ ارادی، ذہنی صحت، خاندانی زندگی، دوستی اور تعلیمی مستقبل پر سنگین اثرات مرتب کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں نوجوانوں کو منشیات کے استعمال سے دور رکھنے اور ان میں بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے پہلے ہی وزیر داخلہ کی قیادت میں ’بیڈا برو‘ (نہیں بھائی!) مہم شروع کی جاچکی ہے۔ اس کے ساتھ مختلف بیداری پروگرام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔ منشیات سے پاک ہندوستان اور منشیات سے پاک کرناٹک کی تعمیر کے مقصد سے اس مہم کو وسیع پیمانے پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ایس پی نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں منشیات کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے مختلف ریاستوں کے افسران اور موٹر سائیکل سوار اس ریلی میں حصہ لے رہے ہیں۔ 31 اکتوبر کو گجرات کے کیواڑیا میں تمام ریاستوں کے نمائندے جمع ہوکر اس مہم کے پیغام کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
اس موقع پر ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کرشنامورتی، موٹر سائیکل ریلی کے شرکاء، محکمہ پولیس کے افسران و اہلکار، اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ سمیت دیگر افراد موجود تھے۔