نئی دہلی 5/جنوری (ایس او نیوز) سپریم کورٹ نے پیر کو 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کیس میں طالب علم کارکنوں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں، البتہ گلفشاں فاطمہ سمیت پانچ دیگر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سنایا۔
جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بینچ نے کہا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ مواد سے ایک فریق اول مجرمانہ سازش کا معاملہ بنتا ہے۔
سپریم کورٹ نے کیس کے دیگر ملزمان گلفشاں فاطمہ، میراں حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی مسلسل قید کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ریکارڈ پر موجود مواد سے ان دونوں کی مبینہ شمولیت ظاہر ہوتی ہے اور اس مرحلے پر انہیں ضمانت پر رہا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ بینچ نے کہا کہ ان کے خلاف قانونی حد (Statutory Threshold) پوری ہوتی ہے، اس لیے ضمانت کا جواز نہیں بنتا۔
سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کے کردار کو دیگر ملزمان سے واضح طور پر مختلف قرار دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کے بیانیے اور پیش کردہ شواہد کے مطابق ان دونوں کی مبینہ شمولیت نوعیت اور سطح کے اعتبار سے جداگانہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق، مجرمانہ نیت اور شرکت کے لیے درکار بلند معیار کے اطلاق، برابری (Parity) اور ذمہ داری کے تعین میں اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
یہ فیصلہ عدالت کے اس اقدام کے بعد آیا جس میں 10 دسمبر کو ملزمان کی ان اپیلوں پر فیصلہ محفوظ رکھا گیا تھا، جو دہلی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر کے حکم کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔ ہائی کورٹ نے اس سے قبل سازش کیس میں ضمانت دینے سے انکار کیا تھا۔
سماعت کے دوران دہلی پولیس کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا اور ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس وی راجو پیش ہوئے، جبکہ ملزمان کی نمائندگی سینئر وکلا کپل سبل، ابھیشیک سنگھوی، سدھارتھ دیو، سلمان خورشید اور سدھارتھ لتھرا نے کی۔
ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے دہلی پولیس نے موقف اختیار کیا کہ فسادات اچانک نہیں ہوئے بلکہ یہ ایک “پہلے سے منصوبہ بند اور منظم سازش” کا نتیجہ تھے، جس کا مقصد بھارت کی خودمختاری کو کمزور کرنا تھا۔ استغاثہ کے مطابق تمام ملزمان ایک مشترکہ منصوبے کا حصہ تھے اور اسی کے تحت ہونے والے جرائم کے ذمہ دار ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تمام ملزمان 2020 کے دہلی فسادات میں اپنے مبینہ کردار کے لیے پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔ یہ مقدمہ 2020 کے فسادات کے پیچھے مبینہ "بڑی سازش" سے متعلق ہے، جو شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) اور مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے خلاف مظاہروں کے درمیان پھوٹ پڑا، جس سے 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
شرجیل امام 28 جنوری 2020 سے جیل میں ہیں جب کہ عمر خالد 13 ستمبر 2020 سے جیل میں ہیں۔