سرسی ،20 / دسمبر (ایس او نیوز) نیشنل ہیرالڈ سے متعلقہ منی لانڈرنگ معاملے میں دہلی کی عدالت نے راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کو جو راحت دی ہے اس پس منظر میں کانگریس پارٹی کے کارکنان سے سرسی میں بی جے پی کے دفتر کا محاصرہ کرتے ہوئے احتجاج اور ناراضی کا اظہار کیا ۔
خیال رہے کہ اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے خلاف درج کیے گئے معاملے کو دہلی کی عدالت نے قبول کرنے سے انکار کیا تھا ۔
سرسی میں بے جے پی دفتر کا محاصرہ کرنے والے اتر کنڑا ضلع کانگریس کے مظاہرین کا کہنا تھا کہ مرکز میں موجود بی جے پی حکومت ای ڈی اور سی بی آئی جیسی خود مختار ایجنسیوں کو اپنے غلط مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے ۔ اسی پس منظر میں راہل گاندھی اور سونیا گاندھی جیسے قومی سطح کے لیڈروں کو ہراساں کیا گیا ہے ۔
شہر میں موجود کانگریس پارٹی کے دفتر سے سیکڑوں کانگریسی لیڈروں اور کارکنوں نے بی جے پی کے دفتر تک پدیاترا کی ۔ وزیر اعظم نریندرا مودی اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ مظاہرین نے بی جے پی دفتر کے اندر گھسنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے ہنگامی صورت حال پیدا ہوئی ۔
اس موقع پر احتجاج کی قیادت کر رہے ضلع کانگریس صدر سائی گاونکر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1937 میں آزادی کی جد و جہد کے لئے جواہر لعل نہرو نے نیشنل ہیرالڈ اخبار جاری کیا تھا ۔ مگر سبرامنیم سوامی اور بی جے پی لیڈروں نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی پر پیسوں کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا ۔ اب چونکہ عدالت نے اس معاملے میں اس طرح کا کوئی جرم واقع نہیں ہونے کی بات کہہ کر اسے معاملے کو خارج کر دیا ہے ۔ یہ سچائی کی جیت ہے ۔
مرکزی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریسی لیڈروں نے کہا کہ عام لوگوں پر صرف سانس لینے کے لئے کوئی ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا ہے ۔ بقیہ ہر چیز کے لئے جی ایس ٹی لگا دی گئی ہے ۔ جس وقت منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے ، تب ملک پر 53.11 لاکھ کروڑ روپے کا قرضہ تھا ۔ مگر مودی سرکار میں وہ قرضہ بڑھ کر 200 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ بی جے پی امیروں کے لئے ہے تو کانگریس غریبوں کے ساتھ ہے جس نے پانچ گارنٹیاں شروع کی ہیں ۔
کانگریس کے ضلع ترجمان شمبھو شیٹی نے کہا کہ ملک میں جمہویت کو خطرہ لاگو ہوگیا ہے ۔ ای ڈی اور سی بی آئی کو بی جے پی اپنے ذیلی اداروں کی طرح استعمال کر رہی ہے ۔ جبکہ خاتون کانگریسی لیڈر جیوتی پاٹل نے کہا کہ دہلی عدالت کا فیصلہ عداوت پر مبنی سیاست کی ملی ہوئی ہار ہے ۔