منگلورو ،29 / نومبر (ایس او نیوز) وزیر اعظم نریندرا مودی کے اڈپی دورے سے استفادہ کرتے ہوئے دکشن کنڑا ضلع انچارج وزیر دنیش گنڈو راو نے منگلورو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ریاستی وزیر اعلیٰ سدا رامیا کی طرف سے لکھا گیا ایک مراسلہ وزیر اعظم کی خدمت میں پیش کیا، جس میں کرناٹکا کے کسانوں کو درپیش مشکلات دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
وزیر اعظم کے نام اپنے مراسلے میں وزیر اعلیٰ نے بتایا ہے کہ کرناٹکا میں مکئی اور مونگ کی قیمتیں مرکزی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ کم سے کم قیمت (مینیمم سپورٹ پرائس) سے بھی نیچے گرنے کی وجہ سے کسانوں کو بڑی دشواریاں لاحق ہیں، اس لئے وزیر اعظم کو اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے کسانوں کو راحت پہنچانے کا انتظام کرنا چاہیے ۔
مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ کرناٹکا میں مکئی 17.94 لاکھ ہیکٹرز اور 4.16 لاکھ ہیکٹرز زمین پر مونگ کی کاشت ہوتی ہے اور 54.74 لاکھ ٹن مکئی اور 1.983 لاکھ ٹن مونگ کی پیداوار ہونے کی توقع ہے ۔ حالانکہ ایسی فصلوں سے کسانوں کو مالی طور پر بڑا فائدہ ہونا چاہیے تھا ، لیکن موجود قیمتیں ان کے لئے ایک بحران کا سبب بن گئی ہیں ۔
مرکزی حکومت نے مکئی کے لئے 2,400 روپے فی ٹن اور مونگ کے لئے 8,768 روپے فی ٹن کم سے کم قیمت طے کی ہے ۔ لیکن کرناٹکا میں اس وقت مکئی کے لئے 1,600 روپے سے 1,800 روپے فی ٹن اور مونگ کے لئے 5,400 روپے فی ٹن کم سے کم قیمت چل رہی ہے ۔ قیمتوں میں اس طرح کی انتہائی گراوٹ اس سے قبل دیکھی نہیں گئی ہے ۔ اس مرتبہ کچھ باہری دباو اور فراہمی اور مانگ میں گڑبڑی کی وجہ سے یہ قیمتیں بری طرح گر گئی ہیں ۔
مراسلے میں اس رجحان پر قابو پانے اور ایم ایس پی کے مطابق مکئی اور مونگ خریدنے کے لئے ایجنسیوں کو ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت ایتھانول بنانے والے پلانٹس کے لئے براہ راست کسانوں یا فارمر پرڈیوسر آرگنائزیشنس سے مکئی خریدنے کی ہدایت جاری کرے ۔ اگر براہ راست خریدی ممکن نہیں ہے تو پھر ایتھانول بنانے والوں کو دی جانے والی رعایتوں پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ ان رعایتوں کا فائدہ کسانوں کو نہیں پہنچ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ کرناٹکا کے لئے ایتھانول کا کوٹہ بڑھانے اور اس کی در آمد پر روک لگانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ۔