ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / یوپی سمیت چار ریاستوں میں یکم دسمبر سے مردم شماری، جنوری میں معلومات کی دوبارہ جانچ

یوپی سمیت چار ریاستوں میں یکم دسمبر سے مردم شماری، جنوری میں معلومات کی دوبارہ جانچ

Mon, 07 Sep 2026 11:27:44    S O News

نئی دہلی ، 7/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)آئندہ سال کے اوائل میں ممکنہ اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ اور گوا کے بیشتر علاقوں میں مردم شماری ۲۰۲۷ء کا عمل ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں پہلے شروع کیا جائے گا۔ ملک کے رجسٹرار جنرل کی جانب سے جاری سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان ریاستوں میں یکم دسمبر ۲۰۲۶ء سے ۴؍ جنوری  ۲۰۲۷ء تک آبادی کی گنتی کی جائے گی، جس کے بعد  ۵؍ سے ۹؍ جنوری  ۲۰۲۷ء تک درج شدہ معلومات کی دوبارہ جانچ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق باشندوں کو ۱۶؍ نومبر سے ۳۰؍ نومبر۲۰۲۶ء تک اپنی معلومات خود درج کرنے یعنی ’سیلف اِنومریشن‘ کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ تاہم اتراکھنڈ کے برف باری سے متاثرہ علاقوں میں مردم شماری کا شیڈول مختلف رہے گا۔حکومت کے مطابق اترپردیش، پنجاب، گوا اور اتراکھنڈ کے برفباری والے علاقوں کے علاوہ دیگر تمام علاقوں کے لئےمردم شماری ۲۰۲۷ء کی تاریخ ۵؍ جنوری  ۲۰۲۷ءکی نصف شب  ۱۲؍ بجے مقرر کی گئی ہے۔ تازہ نوٹیفکیشن کے بعد ریاست میں انتظامی سرگرمیاںبڑھ گئی ہیں اور اس سلسلے میں ریاست کے ۳۱؍ اضلاع کے نامزد ماسٹر ٹرینرز چار روزہ تربیت حاصل کریں گے۔ یہ ٹریننگ  ۱۶؍سے  ۱۹؍ ستمبر تک دین دیال اپادھیائے اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ لکھنؤ میں ہوگی۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد یہ ماسٹر ٹرینرز اپنے متعلقہ اضلاع میں مردم شماری کے کام کیلئےمقرر کئے گئے فیلڈ ٹرینرز کو ضلعی ہیڈ کوارٹر میں تین روزہ تربیت فراہم کریں گے۔ وہیںاوریا ضلع میں مردم شماری ۲۰۲۷ء کے دوسرے مرحلے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے اتوار کو کلکٹریٹ میں ضلع سطحی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ ضلع مجسٹریٹ نے افسران اور اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ مردم شماری سے متعلق تمام رہنما ہدایات اور سوالات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ انہوں نے کہا کہ شمار کنندگان ہر گھر اور خاندان تک پہنچ کر مقررہ سوالات کی بنیاد پر ہی معلومات درج کریں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی خاندان مردم شماری سے محروم نہ رہے۔

کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری کو زیادہ شفاف، سائنسی اور حقیقت پسندانہ طریقے سے کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ملک گیر مہم کے تحت منعقد ایک پروگرام میں سابق ریاستی وزیر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن کملیشور پٹیل نے کہا کہ موجودہ طریقۂ کار سے ملک کی سماجی اور معاشی صورتحال سے متعلق درست اعداد و شمار سامنے آنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ ماڈل کی طرز پر ذات پر مبنی مردم شماری کو سائنسی اور شفاف انداز میں کرایا جائے۔کانگریس نے خبردار کیا کہ اگر مردم شماری کے نوٹیفکیشن اور اسکے طریقۂ کار میں ضروری ترمیم نہیں کی گئی تو سڑک سے پارلیمنٹ تک احتجاج کیا جائے گا۔


Share: