اوٹاوا، 23/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)کینیڈا میں نفرت پر مبنی جرائم کے بڑھتے واقعات نے حکومت کو پریشان کر رکھا ہے۔ اس طرح کے جرائم پر روک لگانے کے لیے ہی حکومت نے ’کامبیٹنگ ہیٹ ایکٹ (بل سی-9)‘ لایا جو اب پارلیمنٹ سے پاس ہو کر قانون بن چکا ہے۔ یہ قانون کناڈا کی پارلیمنٹ میں منظوری ملنے کے بعد رائل منظوری حاصل کر چکا ہے اور 18 جولائی 2026 سے نافذ ہوگا۔ حکومت اسے عوامی سیکورٹی کے لیے ضروری قدم بتا رہی ہے، لیکن شہری حقوق تنظیموں اور ماہرین نے اس کے کچھ التزامات پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں مذہبی مقامات پر حملے بڑھ رہے ہیں، نفرت پھیلانے والی تقریروں میں اضافہ ہو رہا ہے اور الگ الگ طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہی معاملوں کو روکنے اور اس پر قابو پانے کے لیے نیا قانون لایا گیا ہے۔ نئے قانون کے مطابق اگر کسی جرم کے پیچھے کسی مذہب، نسل، رنگ، جنس یا شناخت کے خلاف نفرت کا جذبہ پایا جاتا ہے تو اسے سنگین جرم مانا جائے گا اور سزا بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
مسجد، مندر، کلیسا، اسکول اور کمیونٹی سنٹر جیسی جگہوں پر ڈرانا دھمکانا، جانے سے روکنا یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا... اب یہ سب جرم تصور کیا جائے گا۔ ایسے نشانات یا جھنڈے جو نفرت یا دہشت گردی سے منسلک ہوں، انھیں دکھانا بھی جرم ہو سکتا ہے، اگر ان کا مقصد نفرت پھیلانا ہو۔ پہلے ملزمین کہہ سکتے تھے کہ انھوں نے کوئی بات مذہبی کتاب یا عقیدت کی بنیاد پر کہی تھی، اس لیے انھیں بچایا جائے۔ اب یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ اسی نکتے پر کناڈا میں سب سے زیادہ بحث ہو رہی ہے۔ حالانکہ 60 سے زائد حقوق انسانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ قانون کے اصول پوری طرح صاف نہیں ہیں۔ اس سے پرامن مظاہرہ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے اور مذہبی باتوں کو غلط طریقے سے جرم مانا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون لوگوں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مذہبی مقامات اور طبقات کو محفوظ رکھنا ضروری ہے اور پولیس کو اب بہتر قانونی طاقت ملے گی۔ 18 جولائی 2026 سے یہ قانون پوری طرح نافذ ہو جائے گا۔ پولیس اور عدالتیں اس کے تحت کارروائی کریں گی۔ اب آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے۔