بھٹکل ،20 / نومبر(ایس او نیوز) بھٹکل دیہی پولیس انسپکٹر منجوناتھ لنگا ریڈی پر مسلسل رشوت خوری کا الزام لگاتے ہوئے عوام اور کرن شیرور کی قیادت والی کرناٹکا ایس سی /ایس ٹی ریزرویشن رکشنا سمیتی بھٹکل کی جانب سے اعلیٰ پولیس افسران اور ریاستی وزیر داخلہ کو دو الگ الگ شکایتیں بھیجی گئی ہیں اور مذکورہ سی پی آئی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اتر کنڑا کے معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاو میں شائع رپرٹ کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ انسپکٹر منجو ناتھ کا تقرر جب سے بھٹکل میں ہوا ہے وہ مسلسل اور من مانے طریقے پر رشوت خوری میں ملوث ہوگئے ہیں۔ لوگوں کو تھانے میں بلا کر دھمکانا اور ان سے رقم وصول کرکے چھوڑ دینا معمول بن گیا ہے۔
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ گزشتہ ستمبر کے ایک مہینے میں شراب پی کر گاڑی چلانے (ڈرنک اینڈ ڈرائیو) کے 12 تا 15 معاملے داخل کیے گئے تھے ۔ لیکن ان میں سے صرف پانچ تا چھ معاملوں میں عدالت میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے ۔ بقیہ معاملوں میں فی کس دس تا پندرہ ہزار روپے کھا کر معاملے کو دبا دیا گیا ہے ۔ اس طرح ہر مہینے چھوٹے موٹے معاملوں میں لوگوں کو پولیس اسٹیشن میں طلب کرکے انہیں دھمکانا، راوڈی شیٹ کھولنے کی دھمکی دینا اور ان سے رشوت وصول کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ سڑک کنارے جوس کی چھوٹی موٹی دکانیں چلانے والوں سے تک یہ آفیسر پیسے وصولی کر رہا ہے۔
یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس اسٹیشن میں چھت ڈالنے یا عوامی مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے لگوانے کے معاملے میں بھی بھاری بدعنوانی کی گئی ہے۔
ان تمام معاملات کی تحقیق کرتے ہوئے پولس افسر منجوناتھ لنگاریڈی کے خلاف کڑی کارروائی کرنے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر کارروائی نہیں ہوئی تو پھر اس کے خلاف سخت احتجاج شروع کیا جائے گا۔