ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل کو سٹی میونسپل کونسل کا درجہ، جالی اور ہیبلے علاقے بھی شامل؛ ترقی کی راہ ہموار یا عوام پر نیا بوجھ؟

بھٹکل کو سٹی میونسپل کونسل کا درجہ، جالی اور ہیبلے علاقے بھی شامل؛ ترقی کی راہ ہموار یا عوام پر نیا بوجھ؟

Thu, 07 Aug 2025 18:16:10    S O News
بھٹکل کو سٹی میونسپل  کونسل کا درجہ، جالی اور ہیبلے علاقے بھی شامل؛ ترقی کی راہ ہموار یا عوام پر نیا بوجھ؟

بھٹکل، 8 اگست (ایس او نیوز): کرناٹک کابینہ نے بھٹکل ٹاؤن میونسپل کونسل (TMC) کو سٹی میونسپل کونسل میں اپ گریڈ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت جالی ٹاؤن پنچایت اور ہیبلے گرام پنچایت کو بھی نئے سٹی میونسپل کونسل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کی اطلاع بھٹکل کے رکن اسمبلی اور ضلع اُترکنڑا کے انچارج وزیر منکال وئیدیا نے اپنے فیس بک پیج پر دی۔

منکال وئیدیا نے اس اعلان میں وزیراعلیٰ سدارامیا، نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار، وزیر برائے شہری ترقیات بیراٹھی سریش، اور وزیر برائے میونسپل ایڈمنسٹریشن رحیم خان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اسے بھٹکل کی ترقی کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔

کابینی وزیر منکال وئیدیا کے اس اعلان کے بعد عوام کے اندر ایک طرف سٹی میونسپل کونسل بننے کے ممکنہ فوائد گنوائے جا رہے ہیں وہیں ممکنہ نقصانات کی بھی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ بھٹکل سٹی میونسپل کونسل میں تبدیل ہونے کی صورت میں بھٹکل کو مزید فنڈز کی فراہمی ہوگی اور کونسل کا درجہ ملنے کے بعد بھٹکل کو ریاستی اور مرکزی حکومت سے شہری ترقی کے لیے زیادہ فنڈز دستیاب ہوں گے، جنہیں انفراسٹرکچر، صفائی، سڑکوں، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ اسی طرح بڑے پروجیکٹس کی منظوری آسان ہوگی، اور شہری منصوبہ بندی جدید خطوط پر کی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سٹی میونسپل کونسل کو بعض انتظامی امور میں زیادہ اختیارات بھی حاصل ہوں گے، جس سے فیصلہ سازی میں تیزی ممکن ہے۔

مگر دوسری طرف عوام میں اس بات کو لے کر خدشات بھی پائے جا رہے ہیں اور میونسپل و پنچایت اراکین کے ساتھ ساتھ عام شہریوں میں کئی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ اس اپ گریڈیشن سے گھروں کا پراپرٹی ٹیکس، پانی اور بجلی کے بلوں میں اضافہ یقینی ہے، جو عام آدمی کے بجٹ پر بوجھ ڈالے گا۔ اپ گریڈ ہونے کی صورت میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بڑھتی ہوئی شہری خدمات کی قیمتیں ایک چیلنج بن سکتی ہیں۔ اسی طرح جیسے جالی اور ہیبلے پنچایت کے عوام کو اندیشہ ہے کہ اس اپ گریڈیشن سے ان کی مقامی شناخت و خودمختاری متاثر ہوگی اور شہری قوانین کا بوجھ بھی ان پر پڑے گا۔ ایسے میں انتظامیہ پر لازم ہوگا کہ عوامی خدشات کو سنجیدگی سے لے کر ان کے ازالے کی بھی کوشش کی جائے، تاکہ ترقی کے اس نئے مرحلے میں ہر طبقہ خود کو شامل اور محفوظ محسوس کرے۔

اس اپ گریڈیشن کو لے کر جالی پٹن پنچایت صدر افشاء قاضیا کا کہنا ہے کہ پٹن پنچایت کونسل کی بوڈی منتخب ہوکر دس ماہ کا ہی عرصہ ہوا ہے، ہمیں صحیح ڈھنگ سے کام کرنے کا موقع بھی نہیں ملا کہ ہماری پنچایت کو ٹاؤن میونسپل کونسل اور ہیبلے سے جوڑ کر سٹی میونسپل کونسل میں اپ گریڈ کرایا گیا ہے۔ ہم اس فیصلے سے بالکل متفق نہیں ہیں، اگلی کونسل میٹنگ میں ہم اس تعلق سے ممبران کی رائے لے کر عدالت جاسکتے ہیں۔

اس تعلق سے ٹاؤن میونسپل کونسل کے انچارج صدر الطاف کھروری نے بتایا کہ 2011 کی آبادی کے لحاظ سے آبادی کم تھی اور ٹاؤن میونسپلٹی کو سٹی میونسپل کونسل میں اپ گریڈ کرنے کے لیے آبادی کم ہو رہی تھی، مگر اب 2025 کی آبادی کا حساب لگایا جائے تو آبادی بڑھ چکی ہے اور اس لحاظ سے دوسری پنچایت کو مرج کرکے ٹاؤن میونسپل کونسل میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر تھوڑی بہت آبادی کم بھی ہوتی تو جالی پٹن پنچایت کو ٹاؤن میونسپل کونسل میں شامل کرکے اسے سٹی میونسپل کونسل میں اپ گریڈ کیا جا سکتا تھا، مگر ہیبلے پنچایت کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کونسل کی میٹنگ میں اس تعلق سے بات کی جائے گی۔

Click here for report in English


Share: