ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: سیر و سیاحت کے لیے ساگر روڈ سے آگے ہاڈولّی اور کُنٹوانی جانا پڑا مہنگا؛ حملے میں ایک خاتون سمیت دو شدید زخمی

بھٹکل: سیر و سیاحت کے لیے ساگر روڈ سے آگے ہاڈولّی اور کُنٹوانی جانا پڑا مہنگا؛ حملے میں ایک خاتون سمیت دو شدید زخمی

Tue, 07 Oct 2025 02:50:25    S O News
بھٹکل: سیر و سیاحت کے لیے ساگر روڈ سے آگے ہاڈولّی اور کُنٹوانی جانا پڑا مہنگا؛ حملے میں ایک خاتون سمیت دو شدید زخمی

بھٹکل، 7 اکتوبر (ایس او نیوز): بھٹکل شمس الدین سرکل سے ساگر روڈ کے راستے تقریباً 20 کلو میٹر دور ہاڈولّی اور قریب 14 کلومیٹر دور کُنٹوانی میں سیر و تفریح کے لیے جانا بھٹکل کی ایک فیملی کے لیے مہنگا پڑ گیا، جہاں مبینہ طور پر مقامی افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس واقعہ میں ایک خاتون سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

بھٹکل فاروقی اسٹریٹ کے رہائشی فُضیل ارمار نے بتایا کہ وہ اپنے تقریباً 25 دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ پیر کی صبح ساگر روڈ سے تقریباً 20 کلو میٹر دور ہاڈولّی پنچایت کے آگّا نامی دیہات میں تفریح کے لیے گئے تھے۔ شام ساڑھے پانچ بجے واپسی کے دوران انہوں نے اپنی کار کُنٹوانی میں چائے ناشتے کے لیے روکی۔ کچھ دیر بعد تمام گاڑیاں بھٹکل کے لیے روانہ ہو گئیں، البتہ فُضیل کی کار اور ایک بائک پر سوار ان کے دوست ضیاء اور ان کی اہلیہ عائشہ لامیہ وہیں رک گئے۔

bhatkal-youth-attacked-2

فُضیل کے مطابق، وہ اپنی کار اسٹارٹ کر ہی رہے تھے کہ اچانک ایک نوجوان ان سے اُلجھ پڑا اور الزام لگایا کہ انہوں نے کولڈ ڈرنک کی بوتلیں سڑک کنارے ایک بینر کے نیچے پھینکی ہیں۔ فُضیل نے وضاحت کی کہ بوتلیں انہوں نے یا ان کے گروپ والوں نے نہیں پھینکیں، اس کے باوجود معاملے کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے خود وہ بوتلیں وہاں سے ہٹا دیں۔ تاہم نوجوان نے گالیاں دینا شروع کردیں اور بدتمیزی کرنے لگے۔ فُضیل کے مطابق، جب وہ صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے تو ایک دوسرا شخص اچانک پیچھے سے آ کر ان پر حملہ کر بیٹھا۔ اس کے بعد قریب کے مزید لوگ جمع ہو گئے اور کار میں بیٹھی خواتین اور بچوں کے خلاف بھی ناشائستہ زبان استعمال کرنے لگے۔

اسی دوران بائک پر سوارضیاء اور ان کی اہلیہ عائشہ لامیہ جھگڑے کی وجہ جاننے کے لیے آگے بڑھے تو تقریباً 15 افراد کے ایک گروپ نے ان پر بھی حملہ کر دیا۔ عائشہ لامیہ کو ہاتھ مروڑ کر زمین پر دھکیلنے کے نتیجے میں سر پر شدید چوٹ لگی۔

bhatkal-youth-attacked-4

ضیاء کے مطابق، وہ کسی طرح وہاں سے جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوئے، مگر ساگر روڈ پر واقع بس ڈپو کے قریب پہنچتے ہی آٹو رکشہ اور بائک پر سوار چند افراد نے ان کا پیچھا کیا اور ضیاء کی بائک کو ٹکر مار کر نیچے گرایا، پھر ان پر تشدد کیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔

ضیاء نے فوری طور پر اپنے دوستوں بالخٓصوص فُضیل کو اطلاع دی،جس کے بعد فُضیل سمیت ضیاء اور عائشہ لامیہ کو زخمی حالت میں بھٹکل سرکاری اسپتال پہنچایا گیا، جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ بعد ازاں ضیاء اور ان کی اہلیہ کو لائف کیئر اسپتال میں داخل کیا گیا۔

bhatkal-youth-attacked-1

ڈاکٹرکے مطابق، عائشہ لامیہ کے سر کے نچلے حصے میں چوٹ لگنے سے خون جم گیا ہے، جبکہ ان کا ایک ہاتھ بھی فریکچر ہوا ہے۔ ضیاء کے ہاتھ اور پیر میں زخم آئے ہیں جن کی مرہم پٹی کی گئی ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی بھٹکل ڈی وائی ایس پی مہیش، مضافاتی پولیس تھانے کے سرکل انسپکٹر منجوناتھ لنگاریڈی اور دیگر پولیس عملہ اسپتال پہنچا اور زخمیوں سے بات چیت کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں۔ اس موقع پر بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کی جانب سے ایڈوکیٹ آفاق کولا، مجلس اصلاح و تنظیم کے ذمہ داران ارشاد گوائی، عزیزالرحمن رکن الدین ندوی، سید علی، ارشاد صدیقہ سمیت متعدد نوجوان موجود تھے۔

مضافاتی پولیس تھانے میں معاملہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

bhatkal-youth-attacked-5

Click here for report in English


Share: