بھٹکل، 3 / نومبر (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66 کے توسیعی منصوبے کی تکمیل ہو رہی مسلسل تاخیر اور اس کی وجہ سے عوام کو درپیش مسائل کے پس منظر میں سٹیزنس فورم کی قیادت میں شہر کی مختلف تنظیموں اور اداروں کے اشتراک سے سرکاری افسران، نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا اور ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی کے خلاف احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔
اس تعلق سے بھٹکل کے ٹورسٹ بنگلو میں منعقدہ میٹنگ میں شریک مختلف اداروں کے ذمہ داران نے شہری علاقے میں نیشنل ہائی وے کا توسیعی کام بند رہنے کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ حاضرین کا کہنا تھا کہ الگ الگ مقامات پر چھوڑا گیا ادھورا کام اور بلا ضرورت جگہ جگہ راستے کو موڑنے کی وجہ سے سواریوں کے لئے دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں اور یہ مسئلہ عوام کی جان کے لئے خطرہ بن گیا ہے ۔
جہاں توسیعی کام کیا گیا ہے وہاں پر سروس روڈ اور برساتی پانی کی نکاسی کے لئے نالیاں نہیں بنائی گئی ہیں ۔ اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ برسات ختم ہوتے ہی سڑک کا کام شروع ہوگا، مگر اس ضمن میں کوئی حرکت ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ سروس روڈ کے سلسلے میں افسران کوئی تیقن نہیں دیا جا رہا ہے ۔ عوام کو اتنا بھی نہیں بتایا جا رہا ہے کہ آخر اس منصوبے کے ادھورے کام کا کیا ہونے والا ہے ۔
میٹنگ میں اس توسیعی منصوبے کے تعلق سے ایک اہم ترین مسئلہ اسٹریٹ لائٹس کی طرف شرکاء نے اشارہ کیا اور کہا کہ گزشتہ دو سال سے ہائی وے پر مختلف علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس کا کنکشن کاٹ کر کھمبوں کو ہٹا دیا گیا تھا اور آج تک بجلی بحال نہ کرنے کی وجہ سے ہائی وے کا یہ علاقہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے جس سے عوام اور سواریوں کو انتہائی خطرناک صورت حال سے گزرنا پڑتا ہے ۔ مشکل تو یہ ہے کہ ان سب حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے ضلع انتظامیہ کے افسران ذمہ دار ہیں اور وہ سب کے سب اپنے منھ میں گھنگھنیاں بھر کے بیٹھے ہوئے ہیں ۔
اس موضوع پرسیر حاصل گفتگو اور مشورے کے بعد طے پایا کہ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے پروجیکٹ آفیسر سے ملاقات کرکے توسیعی کام شروع کرنے کے بارے میں واضح معلومات حاصل کی جائیں گی اور اگر جلد سے جلد کام شروع نہیں کیا گیا تو پھر بھٹکل تعلقہ کے تمام اداروں اور تنظیموں کو ساتھ لے کر زبردست احتجاجی مظاہرا کیا جائے گا ۔
اس موقع پر سٹیزنس فورم کے ستیش کمار، مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری، جالی پٹن پنچایت کے نائب صدر عمران لنکا، رکشہ یونین کے صدر وینکٹیش نائک، ایڈوکیٹ ایس ایم خان، حبیب محتشم، پٹن پنچایت کے رکن میستا، پانڈو نائک، منیر، عبدالمجید، وینکٹیّا بھیرومنے، لکشمن کوٹدمکی، نارائن گونڈا وغیرہ موجود تھے ۔
