ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وزیر اعظم نریندر مودی کا اُڈپی دورہ؛ مشترکہ طور پر بھگوت گیتا کا پاٹھ پڑھنے کے پروگرام میں شرکت؛ ’بھارت بھاگیہ ودھاتا‘ کے خطاب سے سرفراز

وزیر اعظم نریندر مودی کا اُڈپی دورہ؛ مشترکہ طور پر بھگوت گیتا کا پاٹھ پڑھنے کے پروگرام میں شرکت؛ ’بھارت بھاگیہ ودھاتا‘ کے خطاب سے سرفراز

Sat, 29 Nov 2025 11:15:14    S O News
وزیر اعظم نریندر مودی کا اُڈپی دورہ؛ مشترکہ طور پر بھگوت گیتا کا پاٹھ پڑھنے کے پروگرام میں شرکت؛ ’بھارت بھاگیہ ودھاتا‘ کے خطاب سے سرفراز

اُڈپی/منگلورو، 28 نومبر (ایس او نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کے روز ساحلی کرناٹک کے اہم دورے پر دہلی سے مَینگلورو اور وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اُڈپی پہنچے، جہاں انہوں نے تاریخی "لکش کنٹھ گیتا پٹھن "  یعنی سب لوگوں کا ایک ساتھ مشترکہ طور پرگیتا کا پاٹھ پڑھنے کے پروگرام میں شرکت کی۔ یہ اجتماعی گیتا پاٹھ شری کرشنا مٹھ کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس میں مٹھ کے سنیاسی، ویدانت اسکالرز، طلبہ اور ہزاروں عقیدت مندوں نے حصہ لیا۔

تقریب کے دوران پریاہ پُتّگی مٹھ کے سوگیندرا تیرتھ سوامی جی نے وزیر اعظم مودی کو “بھارت بھاگیہ ودھاتا’’ کا خطاب دے کر سرفراز کیا۔ سوامی جی نے اس موقع پر اُڈپی میں ’’اُڈپی کاریڈور‘‘ کے قیام کی تجویز  پیش کی، جو وارانسی کاریڈور کی طرز پر ترقیاتی نمونہ ہوگا۔

اجتماعی پاٹھ کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ:ایک لاکھ سے زائد افراد کا اجتماعی طور پر بھگوت گیتا پڑھنا نئی بھارت کی تہذیبی طاقت کا اظہار ہے۔گیتا ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، سماج کی فلاح، یکجہتی، نظم و ضبط اور سچائی کی راہ پر چلنے کا درس دیتی ہے۔ مزید کہا کہ گیتا کی تعلیمات کو جدید دور کے مسائل — جیسے ماحولیات کا تحفظ، دریاؤں اور پانی کے وسائل کی نگرانی، قدرتی زراعت، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال، اور ’’وکیل فار لوکل‘‘— سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے۔مودی نے کہا کہ گیتا صرف ایک مذہبی متن نہیں، بلکہ قومی تعمیر اور سماجی ہم آہنگی کا رہنما اصول ہے۔مودی نے اپنے خطاب میں شری کرشنا مٹھ کی تاریخی اور روحانی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُڈپی کی دھرتی نے بھارت کی دھارمک روایت میں عظیم کردار ادا کیا ہے۔ یہ جگہ صرف عبادت گاہ نہیں، ایک زندہ روایت ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب کا آغاز کنّڑا زبان میں کرتے ہوئے کہا کہ ایودھیا کے رام مندر میں تیار کیے گئے ایک عظیم الشان دروازے کو اُڈپی کے دوَیت واد فلسفے کے بانی، شری مادھواچاریہ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، جو کرناٹک کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے دوارکا میں شری کرشن کے درشن کیے تھے، اور آج اُڈپی میں مجھے کنڈی (کھڑکی) کے ذریعے کرشن کے درشن حاصل کرنے کا شرف ملا۔”

وزیر اعظم نے مزید کہا: آبی ذخائر کا تحفظ ہمارا عزم ہونا چاہیے۔ پانی اور دریاؤں کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایک غریب انسان کی زندگی بہتر بنانے کا عزم کرنا ہوگا۔ ’ودیشی نہیں، دیسی‘ یعنی خود کفیل بھارت ہمارا مشترکہ منتر ہونا چاہیے، اور ’ووکل فار لوکل‘ کو بلند آواز میں عام کرنا چاہیے۔ بہتر طرزِ زندگی اپنانے کا عزم کرنا ہوگا، یوگا سے متعلق سنجیدگی پیدا کرنی ہوگی، اور قدیم نسخوں و دستاویزات کے تحفظ پر بھی کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ کرناٹک اور ترقی یافتہ بھارت کا خواب ضرور پورا ہونا چاہیے۔

مودی نے اپنے خطاب میں سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے  کہا کہ ماضی کی حکومتیں دہشت گردانہ حملوں کے بعد مناسب ردعمل دینے میں ہچکچاتی تھیں، مگر نیا بھارت اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے اور کسی کے سامنے جھکنے والا نہیں۔

اس سے قبل مودی جیسے ہی  مَینگلورو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے، ریاست کے وزیر صحت و دکشن کنڑا ضلع انچارج وزیر دینیش گنڈو راؤ نے مودی کا استقبال کیا، اس موقع پر انہوں نے وزیر اعظم کو وزیراعلیٰ سدارامیا کا خط بھی پیش کیا، جس میں ریاست کے کسانوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت (MSP) میں شدید گراوٹ کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔

بعد ازاں وزیر اعظم ہیلی کاپٹر کے ذریعے اُڈپی پہنچے، جہاں انہیں اَدی اُڈپی ہیلی پیڈ پر اتارا گیا۔ وہاں سے بَنّنجے تا کَلَّسَنک تک ایک شاندار روڈ شو نکالا گیا جس کے لیے خصوصی سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
سڑک کے دونوں اطراف کھڑے عوام نے مودی کا پرجوش استقبال کیا، ہاتھ ہلائے، پھول برسائے اور ’’مودی، مودی‘‘ کے نعرے لگائے۔

اڈپی مٹھ میں خصوصی اسٹیج، ثقافتی پروگرام اور ویدی رسومات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ بہت سے مذہبی رہنماؤں اور مٹھا دھیشوں نے مودی کا خیر مقدم کیا اور گیتا پاٹھ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔


Share: