اڈپی 27 / نومبر (ایس او نیوز)جمعہ کو وزیراعظم نریندر مودی کے اُڈپی آمد کو دیکھتے ہوئے وشوا پرانی کلیان منڈلی کے صدر اور وشوا گئو رکشھا مہا پیٹھ کے دیانندا سوامی نےنریندر مودی کو نشانہ پر لیتے ہوئے کہا کہ مودی کے دور میں ہی بیف ایکسپورٹ اور گئو ہتھیا پر پابندی عائد کرنے کے بجائے اس میں مزید اضافہ ہوا ہے 
سوامی جی نےگئو ہتھیا اور بیف ایکسپورٹ کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر تیکھا تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو اس وقت گائے کا گوشت رفت کرنے اور گئو ہتھیا پر پابندی نہ لگانے پر تنقید کرتے تھے ۔ اب جبکہ وہ تین مرتبہ وزیر اعظم بن چکے ہیں تو تعجب ہوتا ہے کہ ابھی تک انہوں اس پر کیوں پابندی نہیں لگائی ہے۔
سوامی دیانندا نے اڈپی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ملک میں اس وقت لاکھوں گایوں، بیلوں، بچھڑوں اور بھینسوں کو مسلسل کاٹا جا رہا ہے اور ان کا گوشت اور چمڑا ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے ۔ یہ ایک بے چین کرنے والی صورت حال ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جب اندرا گاندھی اس ملک کی وزیر اعظم تھیں تو اس وقت سنگھ پریوار والوں نے گئو ہتھیا پر پابندی کا قانون بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کیا تھا۔ مگر آج اسی آر ایس ایس کی سوچ والی حکومت رہنے کے باوجود مرکزی حکومت نے تا حال گئو ہتھیا پر پابندی کا قانون جاری نہیں کیا ہے۔ کرناٹکا سمیت ملک کی 16 ریاستوں میں گئو ہتھیا پر مکمل پابندی کا قانون نافذ ہوا ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں پابندی لگائی گئی ہے ، مگر مرکزی حکومت کی طرف سے اس پر پابندی کا قانون نہیں لایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اڈپی میں سری کرشنا کی سرزمین پر قدم رکھنے والے وزیر اعظم نریندرا مودی کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ یہاں آرہے ہیں تو انہیں اس کا عہد کرنا ہوگا کہ گئو ہتھیا پرپابندی عائد کریں گے۔ سوامی جی نے کہا کہ اس ضمن میں انہیں ایک میمورنڈم دیا جائے گا۔