انکولہ، 26 / نومبر (ایس او نیوز) انکولہ تعلقہ کے کینی میں تعمیر ہو رہی تجارتی بندرگاہ کے خلاف جاری احتجاج کا ایک سال مکمل ہونے پر مظاہرین نے 'سیاہ دن' کے طور پر انکولہ بند مناتے ہوئے ایک علامتی شَو یاترا نکالی اور اس منصوبے کی سخت مخالفت کا اظہار کیا ۔
انکولہ کے جِئے ہند سرکل پر جمع ہو کر ہزاروں افراد نے تجارتی بندرگاہ کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ احتجاجی مظاہرین نے علامتی لاش اور ارتھی کے ساتھ ماتم کرتے ہوئے ریلی نکالی اور بندرگاہ کے منصوبے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ مجوزہ بندرگاہ کے خلاف گزشتہ ایک سال سے احتجاج چل رہا ہے لیکن حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔ عوامی منتخب نمائندوں کی طرف سے بھی کوئی تعاون نہیں مل رہا ہے ۔ اس وجہ سے ان کی زندگی تباہ ہو رہی ہے ۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کو فوراً رد کر دیا جائے، مقامی لوگوں کو جینے کے لئے تحفظ فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے تبنیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے مطالبات واپس نہیں لیں گے ۔ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں احتجاج جاری رہے گا ۔
احتجاجی مظاہرین ضلع ڈپٹی کمشنر اور ضلع انچارج وزیر موقع پر پہنچنے کی ضد پر اڑے رہے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک کڑکتی دھوپ میں دھرنے پر بیٹھے رہے ۔ دوپہر کے وقت ضلع ڈپٹی کمشنر کے لکشمی پریا نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے میمورنڈم وصول کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی بندرگاہ کے خلاف احتجاج اور عوام کے ذریعے سامنے آنے والے جذبات سے حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ عوامی اجلاس میں سامنے آنے والی باتوں سے مرکزی وزارت ماحولیات کو بھی آگاہ کیا گیا ہے ۔ اب وہاں سے فیصلہ آنا باقی ہے ۔
ڈپٹی کمشنر نے مظاہرین سے کہا کہ مقامی مسائل کو حکومت کے علم میں لانا ضلع انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ۔ بندرگاہ کی تعمیر کے سلسلے میں بعض سروے کے معاملات کے لئے اجازت طلب کی گئی تھی ۔ تا حال کسی قسم کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ اگر کوئی کسی قسم کا سروے کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بات فوری طور پر ضلع انتظامیہ کے علم میں لائی جائے ۔
بتایا جاتا ہے کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران منایا انکولہ بند پوری طرح کامیاب رہا ۔ ایمرجنسی خدمات کو چھوڑ کر باقی تمام کاروبار مکمل طور پر بند رہے ۔ یہاں تک کہ مچھلی مارکیٹ، ترکاری مارکیٹ کے علاوہ سڑک کنارے کی چھوٹی موٹی دکانیں بھی پوری طرح بند رہیں ۔ آٹو رکشہ، ٹیکسیاں اور دیگر موٹر گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں ۔