ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ’رِجیم چینج‘ منصوبے سے وابستگی کا دعویٰ بے بنیاد، احمدی نژاد کا دوٹوک مؤقف

’رِجیم چینج‘ منصوبے سے وابستگی کا دعویٰ بے بنیاد، احمدی نژاد کا دوٹوک مؤقف

Wed, 15 Jul 2026 11:45:11    S O News

تہران ،  15/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد ایران میں اسرائیل کے ’رجیم چینج منصوبے‘ کا حصہ تھے،انہیں موساد نےایران میں حکومت گرانے کا کام دیا تھا۔ تاہم احمدی نژاد نے اس خبر کو جھوٹ اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔ احمدی نژاد کے ترجمان نے کہا کہ نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ ہالی ووڈ کی فلم کی کہانی کی طرح ہے اور اس کی تردید بھی ضروری نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی اخبار رقم کے عوض من گھڑت مضامین اور رپورٹس شائع کرنے پر بھی آمادہ رہتا ہے۔ احمدی نژاد کے ترجمان نے کہا کہ احمدی نژاد معمول کے مطابق سرگرم ہیں اور اپنی روزمرہ کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام اور دیگر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں رجیم چینج کے کئی برسوں پر محیط منصوبے کے تحت اسرائیل نے احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش کی، حالانکہ وہ اسرائیل مخالف اور ہولوکاسٹ سے انکار کرنیوالے ایرانی لیڈر ہیں۔

محمود احمدی نژاد۲۰۰۵ء سے۲۰۱۳ء تک ایران کے صدر رہے اور اس دوران انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر سخت تنقید کی اور ایران نے جوہری پروگرام پر بھی پیش رفت کی۔ خیال رہے کہ احمدی نژاد اعلیٰ عہدے پر رہتے ہوئے بھی سادگی پسند اور کفایت شعارشخص کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا خود احمدی نژاد کو ایران میں اقتدار دلانے کی کوششوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ ہنگری نے نژاد کو۲۰۲۴ء میں بڈاپسٹ میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، جہاں کانفرنس میں موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے ان سے ملاقات کی، اسرائیل نے نژاد کے رہائش اور سفری اخراجات بھی ادا کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مہم اس وقت اپنے عروج پر پہنچی جب فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے پہلے دن احمدی نژاد کے محافظوں کو نشانہ بنایا گیا، تاکہ انھیں مبینہ نظر بندی سے آزاد کرایا جا سکے۔  اس حملے کے بعد ایک گاڑی احمدی نژاد کو ایک محفوظ مقام پر لے گئی تاہم بعد میں انہوں نےمایوس ہو کر وہ محفوظ مقام چھوڑ دیا۔

قابل ذکر ہے کہ ایران کی نیوز ویب سائٹ ’خبر آن لائن‘ نے بھی ان دعوؤں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ محمود احمدی نژاد کبھی بھی نظر بند نہیں رہے۔ ویب سائٹ کے مطابق وہ ایران کے اندر اور بیرونِ ملک اپنی مرضی سے آزادانہ سفر کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ احمدی نژاد کئی بار بیرونِ ملک جا چکے ہیں، جن میں گوئٹے مالا اور ہنگری کے دورے بھی شامل ہیں۔


Share: