نئی دہلی،27/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) 7ویں پے کمیشن کے کئی مسائل کولے اٹھے تنازعات میں ملازمین نے ایچ آراے کی شرح پر بھی اعتراض کیا تھا۔حکومت نے تمام مسائل پربات چیت کے لیے تین کمیٹیاں تشکیل دی تھی، جن کو ملازمین کے نمائندوں سے بات چیت کرنے کااختیاربھی دیا گیا تھا۔ان کمیٹیوں میں ایک کمیٹی خزانہ سکریٹری اشوک لواسا کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی، اسی کمیٹی کے پاس الاؤنس کا مسئلہ بھی تھا، رواں مہینہ کی 22/تاریخ کو اس کمیٹی کی آخری میٹنگ ہوئی تھی، جس میں ملازمین سے آخری بار الاؤنس کے معاملے پربحث مکمل کی گئی تھی، الاؤنس کمیٹی سے بات چیت کرنے کے لیے ملازمین کی مشترکہ تنظیم این جے سی اے کے نمائندے شامل ہوئے تھے۔ذرائع بتا رہے ہیں کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ تیار کرکے حکومت کو سونپ دی ہے، اب یہ رپورٹ کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔حالانکہ رپورٹ کے حقائق ابھی عوامی نہیں کئے گئے ہیں، لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ کمیٹی نے ملازمین کے مطالبات پر مثبت رخ اپنایا ہے، یہ بھی صاف سمجھا جا رہا ہے کہ حکومت اس بارے میں اپنا فیصلہ کا اعلان8/مارچ کے بعد کرے گی،کیونکہ اس دن ملک میں پانچ ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخابات کے آخری مرحلے کی پولنگ ہوگی۔مانا جا رہا ہے کہ حکومت نے ٹرانسپورٹ الاؤنس (سفری الاؤنس)کو دو حصوں میں تقسیم کیاہے، ایک سی سی اے اوردوسراسابق میں دیا جانے والا ٹی اے ہے۔یہ پانچویں پے کمیشن کی طرح قابل ادائیگی ہو گا،ایساماناجا رہاہے۔یہ بھی کہاجا رہا ہے کہ ان کو ڈی اے سے الگ کر دیا جائے گا اور یہ فکس سلیب ریٹ پر طے ہوگا۔یہ بھی کہاجا رہاہے کہ کمیٹی نے ملازمین کے مطالبات کو مانتے ہوئے ایچ آراے کی شرح کو چھٹے پے کمیشن کی رپورٹ کے حساب سے دینے کی بات کو قبول کر لی ہے۔دوسرا سب سے اہم سوال اب بھی بنا ہوا ہے کہ حکومت نے ایچ آراے کو کب سے دینے کی بات تسلیم کی ہے؟یہ سوال اب بھی ملازمین کو ستا رہا ہے، کیا یہ شرح 1.1.16سے نافذ کی گئی ہے یا پھر 1.4.17سے یہ نافذ ہوں گی؟جہاں تک ملازمین کا سوال ہے،وہ اسے گزشتہ سال جنوری سے نافذ کروانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے کچھ وقت پہلے ایسا اشارہ ملا تھا کہ سبھی متنازعہ الاؤنس کو یکم اپریل 2017سے نافذ کیا جائے گا۔اس سلسلے میں جی سی ایم کے سکریٹری اور ملازم لیڈر راگھویا نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے جو اشارے مل رہے ہیں،اس کے حساب سے سبھی الاؤنس جن پر تنازعہ تھا اور جن پر حکومت سے بات چیت ہوئی تھی، وہ یکم جنوری 2016کے بجائے یکم اپریل 2017سے نافذ ہو سکتے ہیں۔اس سے یہ بات صاف ہے کہ ملازمین کو افسوس ہو گا کہ انہیں جو بڑھے ہوئے الاؤنس کا ایریئر ملنا چاہیے، وہ اب نہیں ملے گا۔انہوں نے بتایا کہ 22/فروری کو سبھی الاؤنس کو لے کر حکومت سے آخری بار بات چیت ہوئی تھی اور ملازمین کی جانب سے صاف کر دیا گیا تھا کہ ایچ آراے 30، 20، 10کے تناسب میں دیا جانا چاہیے یہ بھی بات صاف ہے کہ الاؤنس کمیٹی نے تمام الاؤنس پر ملازم لیڈروں سے بات چیت کر لی ہے۔غورطلب ہے کہ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ایچ ؑآراے کو پرانے فارمولے کی بنیاد پر طے کیا جائے یا پھر اس کی شرح میں اضافہ کیا جائے۔ مرکزی ملازمین کا کہنا ہے کہ فی الحال طے شدہ فارمولہ کے حساب سے ایچ آراے ملازمین کو پہلے کے مقابلے میں کم ملنے لگا ہے۔