ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ساحلی علاقے میں گزشتہ 6 سال کے دوران 323 ماہی گیر غرقاب ہوئے

ساحلی علاقے میں گزشتہ 6 سال کے دوران 323 ماہی گیر غرقاب ہوئے

Tue, 29 Jul 2025 11:37:27    S O News

اڈپی ،29 / جولائی  (ایس او نیوز) سرکاری طور پر ظاہر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 6 سال کے عرصے میں ریاست کی ساحلی پٹی پر 323 ماہی گیر سمندر میں غرقاب ہوئے ہیں ۔ 
    
بتایا جاتا ہے ماہی کشتیاں سمندر میں ڈوبنے اور مچھیروں کے جان گنوانے کے حادثے زیادہ تر مانسون کے موسم میں پیش آتے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ حفاظتی انتظامات کی کمی ہوتی ہے ۔
    
خیال رہے کہ امسال 15 جولائی کو گنگولی کے سمندر میں تین مچھیرے ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے ۔ اسی طرح دو سال قبل 31 جولائی 2023 کو اوپندا میں دو ماہی گیروں کی موت واقع ہوئی تھی ۔ 16 اگست 2016 کو کنداپور میں چار ماہی گیر سمندر میں ڈوب کر فوت ہوئے تھے ۔
    
محکمہ ماہی گیری کی طرف سے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں اس کے مطابق گزشتہ چھ سال کے دوران اڈپی ضلع میں سمندر میں ڈوبنے کی وجہ سے 140 ماہی گیروں نے جان گنوائی جبکہ اتر کنڑا میں 162 مچھیرے غرقاب ہوئے اور دکشن کنڑا میں 21 ماہی گیر موت کا شکار ہوگئے ۔ ان میں سے زیادہ تر اموات مانسون کے دوران جولائی اور اگست میں واقع ہوئی ہیں ۔ مانسون کا یہ وقفہ ماہی گیری کے لئے انتہائی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس وقت بھاری پیمانے پر بارش ہوتی ہے اور سمندر کا موسم بہت خراب رہتا ہے ۔ سرکاری حکام کی طرف سے سمندر میں جانے سے منع کرنے کے باوجود اور بغیر کسی حفاظتی بندوبست کے سمندر میں ماہی گیری کے لئے نکلنا اکثر و بیشتر اس طرح کی ہلاکتوں کا سبب بن جاتا ہے ۔ 
    
دوسری طرف ماہی گیروں کا الزام ہے کہ سمندر اور ندیوں کے سنگم کے پاس بہت زیادہ کیچڑ اور مٹی جمع ہونے، سنگم کے پاس موجود مٹی اور کیچڑ نکالنے کا کام انجام نہ دینے اور بہت ساری بندرگاہوں پر بریک واٹرس کو توسیع دینے کا کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ایسے جان لیوا حادثے رونما ہوتے ہیں ۔ 
    
ماہی گیروں کا یہ بھی الزام ہے کہ منگلورو، ملپے، گنگولی، ہیجماڈی، کوڈیری، بھٹکل، ہوناور اور کاروار کی بندرگاہوں پر دیکھ ریکھ کا انتظام نہایت خراب ہے ۔ بریک واٹرس میں توسیع نہ ہونے کی وجہ سے ماہی گیروں کو سمندر میں لے جانے اور واپس لانے میں بالخصوص سمندر میں اچھال ہونے کی صورت میں بڑی دقت پیش آتی ہے ۔  اس کے علاوہ فی الحال جو لائف جیکیٹس استعمال ہو رہے ہیں اس میں ماہی گیری کرنا مشکل ہوتا ہے اس لئے انہیں بدل کر جدید طرز کے [ایرگومیٹرک] لائف جیکیٹس فراہم کرنا چاہیے ۔


Share: