نئی دہلی، 2/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) سال گزشتہ کو خیر باد کہتے ہوئے ہم نئے سال میں قدم رکھ چکے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ سال نو کی منصوبہ کرتے ہوئےسال رفتہ کا جائزہ بھی لیں۔ سیاسی طور پر دیکھیں تو ۲۰۲۳ء کو ہم سیاسی ہنگامہ آرائیوں کا سال کہہ سکتے ہیں۔ اس دوران جنوری میں بھارت جوڑو یاترا کے اختتام سے لے کر دسمبر میں نتیش کمار کا ڈرامائی انداز میں اپنی پارٹی کے صد بننے تک کئی اہم واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان میںکچھ واقعات ایسے بھی ہیں جن کی بازگشت آئندہ کئی برسوں تک سنائی دیتی رہے گی۔ ذیل میں ہم انہیں واقعات کا سرسری جائزہ لیں گے۔
راہل گاندھی کی قیادت میں۷؍ ستمبر ۲۰۲۲ء کو کنیاکماری (تمل ناڈو) سے شروع ہونے والی یہ یاترا جنوری کی ۳۰؍ تاریخ کو کشمیر میں اپنے انجام کو پہنچی۔اس دوران ۱۴۵؍ دنوں میں راہل گاندھی نے اپنی ایک بڑی ٹیم کے ساتھ ۱۲؍ ریاستوں اور ۲؍ مرکزی علاقوں سے گزرتے ہوئے ۴؍ ہزار ۸۰؍ کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ ۳۰؍ جنوری کو سری نگر میں وہ منظر قابل دید تھا جب تیز برف باری کے دوران راہل گاندھی نے کھلے آسمان تلے عوام سے خطاب کیا تھا۔ اس یاترا نےقومی سیاست میں راہل گاندھی کو شبیہ یکسر تبدیل کردیا تھا اور انہیں ’پپو‘ سےایک سنجیدہ سیاست داں بنا دیا تھا۔
اس کے علاوہ بھی ۲۰۲۳ء کا سال راہل گاندھی کیلئے بہت اہم رہا۔ اس دوران ایسے کئی واقعات رونما ہوئے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی مین اسٹریم میڈیا انہیں جگہ دینے پر مجبور ہوا۔اس میں ایک اہم واقعہ ان کی لوک سبھا کی رکنیت کی منسوخی اور پھر اس کی بحالی کا بھی ہے۔۲۴؍ مارچ ۲۰۲۳ء کو گجرات کی ایک ذیلی عدالت نے ۲۰۱۹ء کے ایک معاملے کی آناً فاناً سماعت کرتے ہوئےکانگریس لیڈر کو ’مودی سرنیم‘ معاملے میں ۲؍ سال کی سزا سنادی۔ فیصلہ آتے ہی نہ صرف لوک سبھا سیکریٹریٹ نے ان کی رکنیت منسوخ کردی بلکہ ایک ہفتے کی نوٹس میں ان سے بنگلہ بھی خالی کروا لیا۔ راہل گاندھی نے جس شائستگی سے سرکاری بنگلہ خالی کیا، اس کی وجہ سے ان کے سیاسی دشمن بھی انہیں داد دینے پر مجبور ہوئے۔ معاملہ ذیلی عدالت سےہوتے ہوئے سپریم کورٹ تک پہنچا اور پھرساڑھے چار ماہ بعد ۴؍ اگست کو سپریم کورٹ نے سابقہ عدالتوں کے فیصلے پر روک لگا تے ہوئے راہل گاندھی کی رکنیت کی بحالی کا راستہ ہموار کردیا۔
۲۰۲۳ء میں راہل گاندھی اپنی ملاقاتوں کی وجہ سے کئی بار سرخیوں میں آئے۔ ۹؍ جولائی کو وہ اچانک ہریانہ کے سونی پت ضلع پہنچ گئے، کسانوں سے ملاقات کی، پینٹ کا پائنچہ اوپر کیا اور کسانوں کے ساتھ کھیتوں میں اُترگئے۔ وہاں پر انہوں نے دھان کی روپائی کی، ٹریکٹر چلایا، کسان خواتین سے بات چیت کی، پرینکا گاندھی سے فون پر ان کی بات کروائی اور انہیں اپنے گھر مدعو کیا۔ یہ سب کچھ اس قدر فطری انداز میںہوا کہ نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی ان کی پزیرائی ہوئی۔ اس کے بعد ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ سا چل پڑا۔ ایک دن وہ اچانک ٹرک ڈرائیوروں کے پاس پہنچ گئے اور ان کے ساتھ طویل سفر کیا۔ کرناٹک الیکشن کے دوران انہوں نے بس میں خواتین کے ساتھ سفر کیا، ڈیلیوری بوائز سے ملاقات کی اور موٹرمیکانکوں کے پاس بھی پہنچے ۔ سب سے زیادہ توجہ کی مرکز وہ اُس وقت بنے جب انہوں نے دہلی کی معروف سبزی منڈی کا دور ہ کیا اور رامیشور نامی ایک پریشان حال سبزی فروش کے بارے میں بات چیت کی لیکن اُس وقت ملاقات نہیں ہوسکی۔ بعدمیں ان کا پتہ کرکے انہیںاپنے گھر مدعو کیا اور ان کے ساتھ کھانا کھایا۔
کچھ عرصے بعد انہوں نے دہلی میں’ آنند وہار‘ ریلوے اسٹیشن پر قلی کا کام کرنے والوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ اس طرح ان کی یہ ساری ملاقاتیں سال بھر موضوع بحث رہیں۔
مئی کے آخری دنوں میں راہل گاندھی نے امریکہ سمیت تین ملکوں کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ۶؍ دنوں تک قیام کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے کئی یونیورسٹیوں میں طلبہ سے ملاقات کی تھی اور اُن ممالک کی اہم شخصیات سے مختلف مسائل پر بات چیت کی تھی۔ اس دوران بھی وہ لگاتار خبروں میں رہے اور کئی بار تو ان کا موازنہ نریندر مودی سے کیا گیا۔
اس سال کی سنسنی خیز خبروں میں ستیہ پا ل ملک کے وہ انکشافات ہیں جن پر۵؍ سال تک پردہ پڑا رہا۔ بی جے پی ہی کے دور میں کشمیر اور دیگر کئی ریاستوں کے گورنر رہ چکے ستیہ پال ملک نے اپنے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ مودی حکومت اگر چاہتی تو پلوامہ حملے کو روکا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ ’حملہ ہونے دیا گیا‘۔ ان کے اس بیان کی وجہ سے ملک و بیرون ملک کافی ہنگامہ رہا۔
مئی کے پہلے ہفتے میں مہاراشٹر میں ایک بڑا ڈراما ہوا جس کے گونج ملک کے دوسرے حصوں میں بھی سنائی دی۔ شرد پوار نے ایک کتاب کا اجرا کرتے ہوئے اچانک پارٹی سے اپنے استعفیٰ کااعلان کردیا۔ اس کے بعد پارٹی میں ایک طرح سے ہنگامہ آرائی مچ گئی۔ ۲؍ دن بعد ’پارٹی کارکنان کے بے حد اصرار‘ پر انہوں نے پارٹی کی صدارت ایک بار پھر قبول کرلی۔ ابھی اس معاملے میں تبصرے اور چرچے ہوہی رہے تھے کہ ۲؍ جولائی کو انہوں نے اپنی پارٹی میں بغاوت کرتے ہوئے ایک بڑے حصے کے ساتھ ریاست کی بی جے پی حکومت میں شمولیت اختیار کرلی اور ایک بار پھر مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ بن گئے۔
ملک میں اپوزیشن اتحاد کی کوششیں بہت پہلے شروع ہوگئی تھیں لیکن اس کی پہلی باضابطہ میٹنگ۲۳؍ جون ۲۰۲۳ء کو پٹنہ میں ہوئی، جس کی میزبانی ریاست کی حکمراں جماعتیں جے ڈی یو اور آر جے ڈی نے کی تھی۔ اس میٹنگ میں ۱۶؍ پارٹیوں نے شرکت کی تھی۔ اس کے بعد اس کی دوسری میٹنگ ۱۷؍ اور ۱۸؍ جو لائی کو بنگلور میں ہوئی جہاں اس کی میزبانی کانگریس نے کی تھی۔ اسی موقع پر اتحاد کا نام ’انڈیا‘ رکھا گیا۔ اس میں کل ۲۸؍ جماعتوں نے شرکت کی تھی۔ محض اس نام سے بی جے پی اس قدر سراسیمہ ہوگئی تھی کہ اسے اپنے اتحادی جماعتوں (این ڈی اے) کو جمع کرنا پڑا اور ’انڈیا ‘ اتحاد کو خبروں میں زیادہ جگہ نہ مل سکے، اسلئے اُسی تاریخ میں ’این ڈی اے‘کی میٹنگ رکھ دی گئی۔ ’انڈیا‘ اتحاد کی تیسری میٹنگ ممبئی میں ہوئی جہاں اس کی میزبانی کانگریس، این سی پی (شرد پوار گروپ) اور شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) نے کی۔
برسوں بعد ۲۰؍ اگست کو کانگریس پارٹی نے اپنی ورکنگ کمیٹی کیلئے اراکین کی تقرری کی ۔اس میں عمر، تجربے، طبقے اور ریاستوں کے درمیان بہترین توازن دیکھنے کو ملا۔ ملکارجن کھرگے کے ذریعہ پارٹی کی کمان سنبھالنے کے بعد بڑا فیصلہ تھا جس کی قومی سطح پر خوب چرچا ہوئی۔
سال کے بڑے سیاسی فیصلوں میں بہار میں ہونے والے ’ذات پر مبنی سروے‘ کا بھی شمار ہوتا ہے۔قومی سیاست میں اس کے دور رس اثرات کی امید کی جارہی ہے۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بھلے ہی یہ موضوع نہ چل سکا ہو لیکن آئندہ لوک سبھا انتخابات میں یہ بڑا موضوع بن کر ابھرے گا اور اسے اپوزیشن کا ماسٹر اسٹروک بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک طویل سیاسی اور عدالتی مرحلے سے گزرنے کے بعد ۲؍ اکتوبر کو بہار حکومت نے ذات پر مبنی سروے کو ظاہر کردیا جس کی وجہ سے ملک کو آزادی کے بعد پہلی بار سرکاری سطح پرمعلوم ہوا کہ ریاست میں کس کی کتنی آبادی ہے۔اس فیصلےکی وجہ سے پہلی بار بی جے پی بیک فٹ پر آتی ہوئی دکھائی دی ہے۔
سال جاتے جاتے بہار کی سیاست میں ایک اور دھماکہ ہوا۔ ۲۹؍ دسمبر کو پارٹی کی مجلس عاملہ میں اس کے صدر للن سنگھ نے استعفیٰ دیا اور نتیش کمار ایک بار پھر پارٹی سربراہ منتخب ہوگئے۔یہ جے ڈی یو کا خالص اندرونی معاملہ ہے لیکن اسے قومی موضوع کے طو رپر پیش کیا گیا اور کئی دنوں پر اس پر گرماگرم بحثیں اور قیاس آرائیاں ہوتی رہیں۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔