کوالالمپور، 15جون؍(آئی این ایس انڈیا)ہندوستان نے ملائیشیا کی ایک یونیورسٹی کی جانب سے ہندو اور سکھ مذاہب کے بارے میں منفی اور غلط تصویر پیشر کرنے کو لے کر تشویش ظاہر کی ہے۔یونیورسٹی نے ایک تعلیمی ماڈیول شائع کیا تھا جس میں ہندو مذہب کے لوگوں کوغیرحساس اورغیرنظافت پسند بتایا گیا تھا۔بعد میں یونیورسٹی نے معافی مانگی۔ملائیشیا میں ہندوستان کے ہائی کمیشن نے ایک بیان میں کہاکہ ہم فکر مند ہیں کہ ہندو مذہب اور سکھ مذہب کے بارے میں منفی اور غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے۔ہندو اور سکھ دو عظیم مذہب ہیں جن کافروغ ہندوستان سے ہوا۔یونیورسٹی ٹیکنالوجی ملائیشیا(یوٹی ایم)کی طرف سے تیار ماڈیول سلائڈ آن لائن دکھائی دئے جس کے بعد یہاں رہنے والے اقلیتی ہندوستانی کمیونٹی اور کچھ دوسرے لوگوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ہائی کمیشن کے بیان میں کہا کہ ملائیشیا کے وزیر صحت، نائب وزیر تعلیم اور دوسرے لوگوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نے بھی یہ نوٹس لیا کہ یوٹی ایم نے گہرا افسوس ظاہر کیا ہے اور یہ اعتماد دلایا کہ دوبارہ ایسا واقعہ نہیں ہوگا۔اس ماڈیول میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ اسلام نے ہی ہندوستان میں ہندوؤں کی زندگی میں تہذیب وتمدن پیداکی۔سکھ مذہب کی پیدائش کی تعلیم پر مرکوز ایک اور سلائڈ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس مذہب کے بانی گرو نانک کی اسلام کے بارے میں معمولی سمجھ تھی اور انہوں نے سکھ عقیدہ قائم کرنے میں ہندطریقے کو ساتھ ملا لیا۔ملیشیائی انڈین پروگریسیوایسوسی ایشن نے ان سلائڈوں کی مذمت کرتے ہوئے یونیورسٹی سے اسے واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔