نئی دہلی:9/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )خلیج عدن میں ہندوستانی بحریہ کے جنگی جہازوں نے چین کے ساتھ مل کر ایک کمرشیل جہاز کو سمندری لٹیروں سے بچایا ہے۔بحریہ کے مطابق،توالا کا کمرشیل جہاز او ایس- 35پر سمندری لٹیروں نے 8 /اپریل کی رات کو حملہ کیا تھا، حملہ ہوتے ہی اس جہاز نے خطرے کا سائرن بجا دیا، اس کے بعد بحریہ کا جنگی جہاز آئی این ایس ممبئی، تکشک، تری شول اور آدتیہ اس کی مدد کے لیے نکل پڑے۔بحریہ کے جنگی جہاز کے کیپٹن نے اپہرتا جہاز کے کیپٹن سے رابطہ کیا،تو پتہ چلا کہ کیپٹن نے اپنے کرو ممبر کے ساتھ خود کو ایک اسٹرانگ روم میں بند کر لیا ہے۔بحریہ کے ہیلی کاپٹر نے ہوائی معائنہ کیا، چین نے بھی اپنے جنگی جہاز کو اس آپریشن میں لگا دیا۔اس کارروائی میں جہاں چین نے اپنے جہاز سے بحری اہلکار کو بھیجا، وہیں ہندوستانی بحریہ نے ہوائی تعاون دیا۔یہاں پر مدد کے لیے پاکستان اور اٹلی کے بحریہ اہلکار موجود تھے، اسی دوران لٹیرے خوف کے مارے جہاز سے فرار ہو گئے۔جب ہیلی کاپٹر سے بھی پتہ چلا کہ جہاز اب کوئی ڈاکو موجود نہیں ہے۔ان سب کے دباؤ کا نتیجہ رہا کہ سمندری لٹیرے جہاز چھوڑ کر بھاگ نکلے۔جب تجارتی جہاز کے عملہ کو پتہ چلا کہ سمندری ڈاکو جہاز پر سے بھاگ گئے ہیں،تو وہ اسٹرانگ روم سے باہر نکلے۔اس جہاز کے 19کرو ممبروں نے ہندوستانی بحریہ کا تعاون کے لیے شکریہ ادا کیا۔ویسے خلیج عدن میں پہلے بحری قزاقوں کی دہشت تھی، لیکن بعد میں یہ دہشت ختم ہو گئی تھی، لیکن اب لگتا ہے کہ وہ پھر سے علاقے میں فعال ہو رہے ہیں۔