ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندوتواواچ کی رپورٹ سے انکشاف:ہندوستان میں گزشتہ6 ماہ کے دوران 250 سے زائد ہیٹ اسپیچ

ہندوتواواچ کی رپورٹ سے انکشاف:ہندوستان میں گزشتہ6 ماہ کے دوران 250 سے زائد ہیٹ اسپیچ

Thu, 28 Sep 2023 11:18:36    S.O. News Service

نئی دہلی ، 28/ستمبر(ایس او نیوز/ایجنسی)واشنگٹن میں قائم ہندوتوا واچ نامی تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان میں رواں برس کے ابتدائی6 ماہ کے دوران مسلمانوں کے خلاف روزانہ اوسطاً ایک سے زیادہ مرتبہ ہیٹ اسپیچ کی گئیں اور یہ صورتحال ان ریاستوں میں زیادہ نمایاں رہی جہاں اگلے چند ماہ کے دوران ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات پر نگاہ رکھنے والی اس تنظیم کے مطابق 2023 کی پہلی ششماہی میں مختلف میٹنگوں اور پروگراموں کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے 255واقعات رپورٹ کیے گئے۔ حالانکہ اس سلسلے میں سابقہ برسوں کا کوئی تقابلی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ہندو واچ نے نفرت ہیٹ اسپیچ کے متعلق اقوام متحدہ کی طے کردہ تعریف کو مدنظر رکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ابلاغ کی کوئی بھی ایسی شکل، جس میں مذہب، نسل، قومیت، رنگ، جنس یا دیگر شناختی عوامل کی بنیاد پر کسی فرد یا گروہ کیلئے متعصبانہ یا امتیازی زبان استعمال کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز تقاریر کے تقریباً 70 فیصد واقعات ان ریاستوں میں ہوئے جہاں 2023ء اور 2024میں انتخابات ہونے والے ہیں۔

ہیٹ اسپیچ اب عام بات: ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے واقعات اب عام ہیں اور یہ معمول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں پارلیمان میں بھی اس کا افسوس ناک مظاہرہ ہوا۔ حالانکہ حکمراں جماعت بی جے پی کے رکن رمیش بدھوڑی نے مسلم رکن پارلیمان کنور دانش علی کے خلاف جس طرح کے نازیبا الفاظ استعمال کیے اس کی ایک بڑے حلقے کی جانب سے مذمت بھی کی جا رہی ہے،لیکن مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے ابھی تک کوئی سخت فیصلہ نہیں لیاہے۔مسلم ایم پی دانش علی نے اپنے کرب کا اظہار کرتے ہوئے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ کیا آرایس ایس کی شاکھاؤں اور نریندر مودی جی کی لیباریٹری میں یہی سکھایا جاتا ہے؟ آپ کا کیڈر جب ایک منتخب رکن پارلیمان کو پارلیمنٹ میں ایسے توہین آمیز الفاظ کہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا تو وہ عام مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتا ہوگا؟ یہ سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔اس سے قبل جون میں بی جے پی کی حکومت والی اتراکھنڈ ریاست میں دیواروں پر ایسے پوسٹر چسپاں ملے تھے جن میں مسلمانوں کو علاقہ چھوڑ کر چلے جانے کی وارننگ دی گئی تھی۔ دیو بھومی رکشا ابھیان نامی ایک ہندو گروپ نے یہ پوسٹر چسپاں کیے تھے۔اقوام متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایتیں کرتی رہی ہیں۔ہندوتوا واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے سب سے زیادہ واقعات گجرات، مہاراشٹر، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں دیکھنے میں آئے۔ صرف مہاراشٹر میں، جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، ایسے 29 واقعات ہوئے۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر نفرت انگیز تقریروں کے دوران سازشی نظریات کا ذکر کیا جاتا ہے جن کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں۔ مقررین نے ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اور ان کے سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ان واقعات میں سے تقریباً 80فیصد ان ریاستوں میں پیش آئے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت 2024میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک بار پھر اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے نفرت انگیزتقریروں کے ذریعہ ہندو ووٹرو ں کی صف بندی کرنا چاہتی ہے۔ ہندوتوا واچ کے مطابق اس نے ہندو قوم پرست گروپوں کی آن لائن سرگرمیوں کا سراغ لگایا، سوشیل میڈیا پر پوسٹ کی گئی نفرت انگیز تقاریر کی تصدیق شدہ ویڈیوز دیکھیں اورمیڈیا میں رپورٹ کیے گئے واقعات کی بنیاد پر اپنی یہ رپورٹ تیار کی ہے۔مودی حکومت نے ہندوتوا واچ کی اس رپورٹ پر فی الحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2014 میں نریندر مودی کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اور منافرت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔


Share: