ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہمارے بچے جشن منا رہے ہیں ، غزہ میں بچوں پر بم باری ہورہی ہے؛ پرینکا گاندھی کا فکر انگیز تبصرہ

ہمارے بچے جشن منا رہے ہیں ، غزہ میں بچوں پر بم باری ہورہی ہے؛ پرینکا گاندھی کا فکر انگیز تبصرہ

Tue, 02 Jan 2024 14:20:14    S.O. News Service

نئی دہلی، 2/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) گزشتہ دو ماہ سے جاری اسرائیلی حملوں میں  اب تک۲۲؍ ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد بچے ہیں۔معصوم بچوں پر ہونے والی اس بمباری کے خلاف عالمی طاقتیں یا تو خاموش ہیں یا پھر اُس طرح سے آواز نہیں اُٹھا رہی ہیں، جس طرح سے انہیں اٹھانا چاہئے۔ اسی حوالے سے کانگریس کی سینئر لیڈراورپارٹی کی جنرل سیکریٹری  پرینکا گاندھی نے ایک فکر انگیز تبصرہ کیا ہے۔ اپنے ہم وطنوں کو مبارکبادی کا پیغام دیتے ہوئے انہوں نے اسرائیل اور حماس کی جنگ میں غزہ کے اندر شہید ہونے والے لوگوں کا ذکر کیا۔نئے سال کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایک جانب ہمارے بچے جشن منارہے ہیں تو وہیں دوسری جانب فلسطینی بچوں پر بمباری ہورہی ہے۔انسانی برادری سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ آئیے! ہم غزہ میں اپنے بھائی بہنوں کو یاد کریں  جو اپنی زندگی، اپنے وقار اور اپنی آزادی کیلئے انتہائی غیر منصفانہ اور غیر انسانی حملوںکا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کیلئے ۲۰۲۳ء کا سال نہایت ہی خوفناک رہا۔ اس دوران  ساڑھے۲۲؍ ہزارافراد جاں بحق ہوگئے۔

 خیال رہے کہ پرینکا گاندھی اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ سے متعلق آواز اٹھاتی رہی ہیں اور غزہ پر حملوں کے حوالے سے مسلسل جنگ بندی کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہیں۔انہوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں ایک طرف لوگ نئے سال کا جشن منا رہے ہیں اور آتش بازیاں کررہے ہیں تو دوسری طرف غزہ میں کھنڈرات اور دھماکوں کو دکھایا گیا ہے۔

 پرینکا گاندھی نے ’ایکس‘ پر ویڈیو کے ساتھ کیپشن لکھا ہے کہ’ ’ آئیے ہم غزہ میں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو یاد کریں جو اپنی زندگی، اپنے وقار اور اپنی آزادی کے حق پر انتہائی غیر منصفانہ اور غیر انسانی حملے کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے لکھا کہ ایک طرف ہمارے بچے جشن منا رہے ہیں وہیں دوسری طرف غزہ کے بچوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے اورافسوس کی بات ہے کہ دنیا کے نام نہاد لیڈر خاموشی سے ان پر ہوتے ہوئے ظلم کو دیکھ رہے ہیں اور اقتدار کے لالچ کی تلاش میں لاپروائی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ دوسری طرف وہ لاکھوں افراد ہیں جو غزہ میں ہونے والے خوفناک تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں، وہ لاکھوں دلیر دل ہمیں ایک نئے کل کی امید دلاتے ہیں۔انسانی برادری سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ان میں سے ایک بنو۔‘‘

 خیال رہے کہ اسرائیلی فورسیز نے نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی غزہ پر بم باری شروع کردی ہےجس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہید ہوگئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ میں مغازی کیمپ کے ایک گھر پر ڈرون بھی گرائے جس میں بچوں سمیت متعدد عام شہری زخمی ہوئے جب کہ نصیرت کے مہاجرین کیمپ میں ایک گھر پر کارروائی میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔

پرینکا گاندھی کے سابقہ بیانات

۵؍ نومبر: یہ خوفناک اور شرمناک بات ہے کہ تقریباً۵؍ ہزار شہری جن میں سےہزاروںبچے ہیں، کا قتل عام کیا گیا اوران کے پورے خاندانوں کا صفایا کر دیا گیا۔ اسپتالوں اور ایمبولینسوں تک پر بمباری کی جارہی ہے، پناہ گزینوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔افسوس کہ اس کے باوجود عالمی رہنما فلسطین میں نسل کشی کی مالی امداد اور حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔​

۱۳؍ نومبر:  یہ کتنی قابل مذمت اور افسوسناک بات ہے۔ غزہ میں ۱۰؍ ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے جن میں سے نصف بچے  ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر۱۰؍ منٹ میں ایک بچہ مر رہا ہے اور اب چھوٹے بچوں کو آکسیجن کی کمی کے باعث انکیوبیٹروں سے نکال کر مرنے کیلئے چھوڑ دیا جارہا ہے۔

۷؍ دسمبر: ہندوستان نے ہمیشہ صحیح باتوں کی حمایت کی ہے۔ ہمارے ملک نے ہمیشہ آزادی کیلئے فلسطینی عوام کی حمایت کی ہے لیکن موجودہ حکومت کا رویہ تبدیل  ہوگیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ `غزہ میں ابھی تک بمباری جاری ہے۔ اشیائے خوردونوش نایاب ہوگئیں۔ طبی سہولیات کو تباہ کر دیا گیا اور تمام ضروری اشیاء کی سپلائی بھی منقطع کر دی گئی۔ پورا ملک تباہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں اپنا کردار ادا کریں اور غزہ کو بچائیں۔


Share: