ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گیانواپی مسجد تنازعہ: ہائی کورٹ کا ویڈیو گرافی کا حکم

گیانواپی مسجد تنازعہ: ہائی کورٹ کا ویڈیو گرافی کا حکم

Tue, 30 Aug 2022 11:13:14    S.O. News Service

نئی دہلی، 30؍اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی)گیان واپی مسجد کے بعد متھرا واقع شری کرشن جنم بھومی کا سروے کرائے جانے سے متعلق کیس پر اہم پیش رفت دکھائی دی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس پیوش اگروال کی بنچ نے متھرا ضلع کورٹ میں سروے کو لے کر زیر التوا عرضی پر چار ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کا حکم صادر کیا ہے۔ اس درمیان آج تک پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق عرضی دہندہ منیش یادو نے دعویٰ کیا ہے کہ ہائی کورٹ نے ویڈیوگرافی سروے کرانے کی ہدایت دے دی ہے۔دراصل بھگوان شری کرشن وراجمان کے فریق منیش یادو نے شری کرشن جنم بھومی اور شاہی عیدگاہ کے متنازعہ احاطہ کا سائنسی سروے کرائے جانے اور نگرانی کیلئے کورٹ کمشنر مقرر کیے جانے کے مطالبہ کو لے کر متھرا کی ضلع عدالت میں گزشتہ سال عرضی داخل کی تھی۔ ایک سال سے زیادہ وقت گزر گیا ہے، لیکن ابھی تک اس عرضی پر سماعت پوری نہیں ہو سکی ہے۔ سماعت جلد پوری کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے منیش یادو نے الہ آباد ہائی کورٹ میں گزشتہ دنوں عرضی داخل کی تھی۔ اس عرضی میں ہائی کورٹ سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی گئی تھی۔عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت سے رپورٹ مانگی تھی۔ ہائی کورٹ نے آج اس معاملے کو نمٹاتے ہوئے متھرا کی ضلع عدالت کو منیش یادو کی عرضی پر 4ماہ میں سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ سنانے کو کہا ہے۔ اب متھرا ضلع عدالت کو طے کرنا ہے کہ وہ منیش یادو کی عرضی پر کیا فیصلہ لیتی ہے۔ ضلع عدالت کو اس عرضی پر 4ماہ میں اپنا فیصلہ سنانا ہے جس میں خاص طور سے 2مطالبات کیے گئے ہیں۔ یہ مطالبات ہیں متنازعہ احاطہ کا سائنسی سروے کرائے جانے کی ہدایت دینے کا، اور ساتھ ہی سروے کی نگرانی کیلئے کورٹ کمشنر مقرر کرنے کا۔اس درمیان عرضی دہندہ منیش یادو نے کہا کہ متنازعہ ڈھانچے کے سروے کی عرضی پر سماعت متھرا کی ضلع عدالت میں ایک سال سے زیر التوا تھی۔ آج ہائی کورٹ نے صاف کہہ دیا کہ چار مہینے کے اندر عرضی پر فیصلہ سنائیے اور سروے کرا کر ہائی کورٹ میں رپورٹ سونپئے۔ ویڈیوگرافی کیلئے ایک ایڈوکیٹ کمشنر اور دو معاون مقرر ہوں گے، ان کے ساتھ دونوں فریق کے علاوہ ضلع کے سبھی اہل افسر موجود رہیں گے۔


Share: