ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گیان واپی معاملہ میں ہندو فریق کو جھٹکا؛نہیں ہوگی مسجد کے فوارہ کی سائنسی جانچ

گیان واپی معاملہ میں ہندو فریق کو جھٹکا؛نہیں ہوگی مسجد کے فوارہ کی سائنسی جانچ

Mon, 17 Oct 2022 01:36:39    S.O. News Service

وارانسی 16/اکتوبر (ایس او نیوز) گیان واپی مسجد کیس میں وارانسی ضلع عدالت نے جمعہ کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے ہندوفریقین کی اس عرضی کو خارج کردیا  جس میں وضوخانہ میں ملنے والے فوارہ جسے وہ شیولنگ قرار دے رہے تھے، اس کی کاربن ڈیٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔   یہ مطالبہ پانچ عرضی گزار ہندو خواتین میں سے چار نے کیا تھا، جن کے مطابق  وضوخانہ کے حوض  میں ملنے والی شئے  ’شیو لنگ‘ ہے،اور اسے سائنسی جانچ یا کاربن ڈیٹنگ سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔

 ایک خاتون عرضی گزار نے اس کی مخالفت کی تھی جبکہ مسلم فریق انجمن انتظامیہ مساجد نے بھی اس اپیل کی مخالفت کی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔  ضلع جج اے کے وشویش نے منگل کو  فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔جمعہ کو انہوں نے فیصلہ سنایا تو  اس سے عدم اتفاق کااظہار کرتے ہوئے چاروں عرضی گزار خواتین نے اسے چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ دوسری طرف مسلم فریق کا کہنا ہے کہ اگر فیصلے کو چیلنج کیا جاتا ہے تو  وہ  بھی  اپنا موقف متعلقہ کورٹ میں  پیش کرے گا۔ 

سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل
 ضلع جج ڈاکٹر اجے کرشن وشویش نے اپنے فیصلے میں مسلمانوں کی پیش کردہ اس دلیل کی تائید کی کہ  حوض میں ملنے والی شہ کو جوں کی توں بحفاظت رکھنے کی ہدایت سپریم کورٹ۱۷؍مئی کے اپنے فیصلے میں دے چکا ہے۔ہمیں خدشہ ہے کہ کاربن ڈیٹنگ کیلئے گرائونڈ پنیٹریشن راڈار(جی پی آر) کا استعمال کرنے سے اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح، آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا بھی اگر کوئی جانچ پڑتال کرتا ہے یا کوئی اور سائنسی طریقہ سے اس کی جانچ کرائی جائے گی تب بھی نقصان پہنچنے اور ٹوٹنے پھوٹنے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے ہم سپریم کورٹ کی ہدایت کے خلاف کچھ بھی اجازت نہیں دے سکتے۔  جج نے یہ کہتے ہوئے  عرضی کو خارج کرنے کا فیصلہ سنادیا۔

عرضی گزاروں کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان 
 جمعہ کو اس اہم فیصلے کے پیش نظر کورٹ اور ارد گرد پولیس کے سختا نتظامات تھے۔ شہر میں بھی سیکورٹی چاق و چوبند تھی۔تاہماس فیصلے سے کاربن ڈیٹنگ کی مانگ کرنے والی عرضی گزار منجو ویاس، ریکھا پاٹھک، لکشمی دیوی اور سیتا ساہو کے وکیل مطمئن  نہیں ہیں۔ ایڈووکیٹ وشنو جین نے کہا کہ ہم اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔ ان کے بقول سپریم کورٹ نے  یہ ہدایت دی تھی کہ گیان واپی سے جڑے تمام معاملوں کی سماعت نچلی عدلت ہی کرے گی۔اسلئے یہ فیصلہ اس ہدایت کے منافی ہے۔ ان عرضی گزاروں کے ایک اور وکیل مدن موہن یادو کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

کاربن ڈیٹنگ کی عرضی غیر ضروری تھی
انجمن مساجد کمیٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ ممتاز احمد اورا ن کی ٹیم نےاپنے دلائل میں سپریم کورٹ کی ہدایتوں کا حوالہ دیا تھاکہ جو بھی اشیا ءدریافت ہوئی ہیں، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔ انہوں  نے یہ بھی  کہا کہ  ابھی تو ایڈووکیٹ  کمشنر کی مذکورہ سروے سے متعلق رپورٹ پر عدالت کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے  ایسے میں  ملنے والی شئے کوشیولنگ مان لینا اور  جانچ کی مانگ کرنا قبل از وقت ہوگا۔مسلم فریق کی وکلا ٹیم کے رکن ایڈووکیٹ اخلاق احمد نے ’انقلاب‘ سے گفتگو میں کہا کہ’’ یہ عرضی ہی غیر ضروری تھی۔‘‘ ان کے بقول،پہلے ایڈووکیٹ کمشنر کی رپورٹ کا کوئی حتمی نتیجہ آجائے ۔پھر کسی اور جانچ کی بات کی گئی ہوتی تو کچھ سمجھ میں بھی آتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی کسی بھی جانچ کی سخت مخالفت کریں گے، کیونکہ یہ اہم مسئلہ ہے ہی نہیں۔ عرضی گزاروں نے  تو شرنگار گوری کی پوجا کی اجازت کیلئے   عرضی  داخل کی تھی اب یہ نیا شوشہ  چھوڑدیاگیا ہے۔ 


Share: