نئی دہلی، 2/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی)سپریم کورٹ نے گیان واپی جامع مسجد انتظامیہ کمیٹی کی درخواست پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جسمیں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ہندو فریقین کے وارانسی کی سول عدالت میں زیر التوا مقدمات پر عبادت گاہوں سے متعلق قانون، 1991 کے سبب سماعت بند نہیں کی جا سکتی۔ یہ مقدمہ 1991 میں ہندو فریق کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں گیانواپی مسجد میں عبادت کا حق اور متنازعہ مقام پر مندر کی بحالی کا مطالبہ شامل تھا۔
کمیٹی نے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس جے بی پاردی والا اور منوج مشرا پر مشتمل بنچ کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا جسکے بعد بینچ نے اس پر سماعت کیلئے رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے مسجد کمیٹی کی دیگر درخواستوں کے ساتھ اس کو ضم کرنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ مسجد انتظامیہ کمیٹی کی متعدد درخواستیں عدالت عظمیٰ میں زیرالتواء ہیں۔ گزشتہ کئی سماعتوں میں کمیٹی گیان واپی مسجد کیلئے کورٹ کمشنر کی تقرری، نشان زد مقام کی کاربن ڈیٹنگ اور فریق مخالف کی درخواستوں کے عبادتگاہوں کے تحفظ قانون کی روشنی میں قابل سماعت نہ ہونے کی اپنی درخواستوں پرسماعت کا مطالبہ دہراتی رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 19دسمبر کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے1991 میں دائرایک عرضی کے خلاف مسلم فریق کی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھاکہ گیان واپی جامع مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کی جائے۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ مسجد کے’مذہبی کردار‘ کا فیصلہ عدالت ہی کر سکتی ہے۔ اس نے مسجد کمیٹی اور اتر پردیش سُنّی سینٹرل وقف بورڈ کی طرف سےدائر کی گئی پانچ درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نےمزید کہا تھاکہ ضلع عدالت میں دائر مقدمہ عبادتگاہ تحفظ قانون کی روشنی میں مانع نہیں۔
مسجد انتظامیہ کمیٹی کی طرف سے پیش سینئر وکیل حذیفہ احمدی نےجمعہ کو سپریم کورٹ کی بنچ کوبتایاکہ یہ عرضی اس درخواست کے خلاف ہے جس نے مسلم فریق کی ملکیت کا مطالبہ کرنے والی پانچوں درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ مسلم فریق نے کہا کہ ورشپ ایکٹ 1991 میں الہ آباد ہائی کورٹ کی مداخلت درست نہیں ہے۔
ہندو فریق کی طرف سے پیش وکیل نے کہاکہ اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے کورٹ کمشنر کی تقرری کے معاملہ میں مداخلت سے انکار کیا تھا۔ اس کے بعد بینچ نے مسجد کمیٹی کی دیگر درخواستوں کے ساتھ اس کو ضم کرنے کا فیصلہ کیا۔
خیال رہے کہ وارانسی کی ضلع عدالت نے31 جنوری کو گیان واپی مسجد کے جنوبی تہہ خانے میں پوجا کی اجازت دی تھی۔ مسجد کمیٹی نے فیصلے کو چیلنج کرنے کیلئے عدالت سے رجوع کیا۔ اس نے ضلع عدالت کے فیصلے کے خلاف الٰہ آباد ہائی کورٹ میں بھی عرضی داخل کی۔ تاہم الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ضلع عدالت کے فیصلہ کو برقرار رکھا تھا۔ کمیٹی نےاس سے قبل بھی عدالت عظمیٰ سے کہا تھاکہ اصل معاملہ درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا ہےاور پلیس آف ورشپ ایکٹ کے مطابق ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوسکتی۔ کمیٹی نے زور دیا تھاکہ ہندو فریق کی عرضی قابل سماعت نہیں، اس لئے مسلم فریق کی زیر التواء درخواستوں پر سماعت کی جائے۔ ایسے میں مسجد انتظامیہ کمیٹی اور ملک کے مسلمانوں کی نگاہیں اب عبادتگاہوں کے تحفظ قانون پر مرکوز ہیں۔ اس قانون پر سماعت میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ذیلی عدالتیں اپنے طور پریکطرفہ فیصلے صادر کرتے ہوئے تنازعات کو مزید ہوا دے رہی ہیں۔ایودھیا میں رام مندر کے حق میں مقدمہ میں بھی سپریم کورٹ نے عبادتگاہوں کے تحفظ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے اس کو سراہا تھا اور اسے ملک میں سیکولرازم کے تئیں عزم کا اظہار قرار دیاتھا۔اس فیصلہ کے باوجود ضلع کی عدالتیں اسے نظر انداز کررہی ہیں اور اپنے فیصلے سنارہی ہیں۔