ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات میں شراب پینے سے 46 لوگوں کی موت کے بعد اُڑ گئے انتظامیہ کے ہوش، 6 پولیس افسران معطل

گجرات میں شراب پینے سے 46 لوگوں کی موت کے بعد اُڑ گئے انتظامیہ کے ہوش، 6 پولیس افسران معطل

Thu, 28 Jul 2022 22:59:28    S.O. News Service

احمد آباد،28؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) گجرات میں زہریلی شراب سے مرنے والوں کی تعداد 46 کو پار کرنے کے بعد انتظامیہ کے ہوش اُڑ گئے ہیں۔ ایک ایسی ریاست میں جہاں شراب پر پابندی عائد ہے اور لوگ زہریلی شراب پی کر موت کے منہ میں چلے گئے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ لوگ الزام لگارہے ہیں کہ شراب پر پابندی صرف کاغٖذات میں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ریاستی انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھول گئے ہیں۔

دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں بھی انتظامیہ کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں اور بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ 

اس درمیان پتہ چلا ہے کہ ریاست کے محکمہ داخلہ نے بوٹاد اور احمد آباد ضلعوں کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے تبادلے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ چھ دیگر پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ زہریلی شراب واقعہ کی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ لوگوں کو شراب کے نام پر زہریلا کیمیکل پینے کے لیے دے دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ملزم جیش نے 600 لیٹر متھائل الکوحل کی چوری کی تھی اور بعد میں اسے 40 ہزار روپے میں فروخت کر دیا۔ اسی متھنال کا استعمال زہریلی شراب میں کیا گیا۔ پورے معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی کے حوالے کر دی گئی ہے۔

زہریلی شراب معاملے میں ایڈیشنل چیف سکریٹری برائے داخلہ راج کمار کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے بوٹاد کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کرن راج واگھیلا اور احمد آباد کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ویریندر سنگھ یادو کا تبادلہ کر دیا ہے۔ دو ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ، ایک سرکل پولیس انسپکٹر، ایک پولیس انسپکٹر اور دو سَب انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔‘‘

اس سے قبل گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے بدھ کو بتایا تھا کہ 25 جولائی کو بوٹاد میں زہریلی شراب پینے کے بعد بوٹاد اور پڑوسی احمد آباد ضلع میں اب تک 46 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ تنہا بوٹاد میں 32 لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ بھاؤنگر، بوٹاد اور احمد آباد میں کم از کم 97 افراد مختلف اسپتالوں میں داخل ہیں جن کا علاج جاری ہے۔


Share: