ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ایس آئی آر پر بی جے پی اور جے ڈی ایس عوام کو گمراہ کر رہی ہیں، کسی اہل ووٹر کا نام نہ ہٹایا جائے: ہری پرساد

ایس آئی آر پر بی جے پی اور جے ڈی ایس عوام کو گمراہ کر رہی ہیں، کسی اہل ووٹر کا نام نہ ہٹایا جائے: ہری پرساد

Tue, 07 Jul 2026 11:53:40    S O News

بنگلورو، 7/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر بی کے ہری پرساد نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور جنتا دل (سیکولر) ایس آئی آر (Special Intensive Revision) کے معاملے پر عوام میں بے بنیاد خدشات پیدا کر رہی ہیں، جبکہ کانگریس کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام ووٹر فہرست سے خارج نہیں ہونا چاہیے۔

بنگلورو میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر پراہلاد جوشی اور سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کرکے کانگریس کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے، لیکن ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کانگریس کا براہِ راست سیاسی مقابلہ کرنے سے قاصر ہے، اس لیے جے ڈی ایس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

بی کے ہری پرساد نے کہا کہ اگر ووٹر اندراج کے عمل میں کہیں کوئی بے ضابطگی ہوتی ہے تو اس کی جانچ کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ماضی میں فرضی ووٹنگ اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات بی جے پی پر عائد ہوتے رہے ہیں، جبکہ کانگریس نے کبھی غیر قانونی ذرائع سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر عمل کے دوران عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مساجد، مندروں اور کمیونٹی ہالوں میں بھی فارم بھرنے میں مدد دی جا رہی ہے، کیونکہ ناخواندہ، غریب اور دور دراز علاقوں کے ووٹروں کے لیے یہ عمل آسان نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام مکمل طور پر قانونی اور عوامی سہولت کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔

کے پی سی سی کے کارگزار صدر جی سی چندرشیکھر نے کہا کہ کانگریس نے گزشتہ ایک سال کے دوران ریاست بھر میں تقریباً 54 ہزار بی ایل اے-2 (Booth Level Agents) مقرر کیے تاکہ ووٹروں کو اندراج کے عمل میں مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کے ذریعے لاکھوں ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کیے گئے ہیں، جس سے جمہوری نظام متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فارم میں موجود کئی تکنیکی نکات اب بھی عوام کے لیے باعثِ تشویش ہیں اور کانگریس نے ان پر وضاحت کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے، تاہم ابھی تک مناسب جواب موصول نہیں ہوا۔

اس موقع پر سابق چیرمین کرناٹک قانون ساز کونسل وی آر سدرشن نے کہا کہ ایس آئی آر کا عمل آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ نافذ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں بیداری پیدا کریں اور ووٹر اندراج کے عمل میں ان کی مدد کریں۔

کانگریس قائدین نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا کہ ووٹر فہرست کی تطہیر کے دوران فرضی یا دہرے اندراج ضرور ختم کیے جائیں، لیکن کسی بھی حقیقی اور اہل ووٹر کو اس کے حقِ رائے دہی سے محروم نہ کیا جائے۔


Share: