احمد آباد26اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )گجرات میں انتخابات ہیں۔ تاریخ کااعلان کردیاگیاہے۔تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں میں پھیری سے لے کر الزام تراشیوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ بی جے پی ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے وہیں، کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو لگ رہا ہے کہ اس بار وہ اقتدار میں واپسی کرسکتی ہیں۔گزشتہ کچھ سالوں میں ریاست میں سیاسی منظرنامہ بدلاہوالگتاہے اور الیکشن کو لے کر یہ مسئلہ نتائج کو تبدیل کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔پٹیل سوسائٹی نے نیندحرام کررکھی ہے۔ایسے ماحول میں خود وزیر اعظم نریندر مودی ریاست میں ایک واقف سے دیوالی کے موقع پر کی گئی بات چیت کی آڈیو پر بنی ایک کہانی کووائرل ہوئی ہے ۔اس بات چیت میں جہاں دیوالی کی مبارکباد دی جا رہی ہے وہیں ریاست کے سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔اس بات چیت میں گجرات کا کاروباری جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کو سیاسی حالات بتا رہے ہیں وہیں پی ایم نریندر مودی کو اپنا موقف سمجھا رہے ہیں۔ گوپال بھائی نام کے وزیر اعظم نریندر مودی کے واقف نے کانگریس کے پروپیگنڈہ کی بات کی ہے اور بتایا ہے کہ کس قسم پارٹی کے کارکنوں کا حوصلہ کم ہو رہاہے۔ وہیں پی ایم نریندر مودی بتا رہے ہیں کہ کس طرح انہیں بچپن سے ہی گالی ملی ہے۔ پھر بھی وہ ایماندارانہ کام کررہے ہیں۔ پی ایم ان پرزور دے رہے ہیں کہ سچ پر چلنا ہے، جھوٹ نہیں بولناہے۔وہ کہتے ہیں کہ عوام سچ جانتی ہے۔پہلے افواہ کانوں کان پھیلتی تھی اب واٹس اپ پھیلانے میں مددکرتاہے۔ ان تنازعے کوسنجیدگی سے مت لو ،بوجھ مت کرو۔ ہم سچ کے راستے پر ہیں، اپنے بارے میں فکر مت کرو۔اپنے لوگوں کے لیے کام کریں۔ واٹس اپ جیسے ٹولز پر لوگ ایسی جھوٹی بات پھیلاتے ہیں ا سے سنجیدگی سے مت لو۔ اتنے سال سے اقتدار میں ہیں ایک الزام سچ ثابت نہیں ہوئے۔کیا لوگ ان لوگوں سے بات کرتے ہیں، ہم مضبوط وکٹ پرہیں۔ غلط بات پر توجہ نہ دیں اور سچ پر چلیں۔