کوچی 29/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی): اتوار کی صبح کیرالہ کے بندرگاہی شہر کوچی کے قریب تین دھماکوں سے پورے ملک میں سنسنی دوڑ گئی جس کے نتیجے میں دو خواتین کی موت، اور 51 دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ اس درمیان خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے کیرالہ کے اے ڈی جی پی (نظم و نسق) ایم آر اجیت کمار کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ تھریسور رورل کے کوڈاکارا پولیس اسٹیشن میں ایک شخص نے آئی ای ڈی دھماکے کے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود سپردگی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے اسی نے کروائے تھے۔ اے ڈی جی پی کے مطابق اس شخص کا نام ڈومنیک مارٹن ہے۔ ہتھیار ڈالنے والے شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسی میٹنگ کے ایک گروپ سے وابستہ ہے۔ اے ڈی جی پی نے کہا، ’’ہم اس کی باتوں کی تصدیق کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق دھماکے کالامسری میں ایک بین الاقوامی کنوینشن سینٹر میں ہوئے، جہاں مسیحی گروپ جیوواہ وٹنیس کے سینکڑوں پیروکار تین روزہ دعائیہ اجلاس کے آخری دن کے لیے جمع تھے۔
نظم ونسق کے ADGP ایم آر اجیت کمار نے کوچی میں میڈیا کے افراد کو بتایا کہ Dominic Martin نامی جس شخص نے جو اپنے آپ کو Jehovah's Witnesses گروپ کا رکن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے آج Thrissur ضلع میں Kodakara پولیس اسٹیشن میں یہ کہتے ہوئے خود سپردگی کردی کہ دھماکوں کے پیچھے اُسی کا ہاتھ ہے۔
پتہ چلا ہے کہ Dominic Martin نے پہلے ایک فیس بک پوسٹ میں اس بات کو تسلیم کیا کہ اُس نے یہ حرکت اِس لئے کی کیونکہ اُس کا خیال ہے کہ عیسائی کے اس گروپ کی تعلیمات ملک مخالف ہیں اور ان سے معاشرے اور ملک کو خطرہ لاحق ہے۔ ADGP نے کہا کہ اُس کے دعوی کی تصدیق کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ NIA کی ایک ٹیم نے دھماکے کی جگہ کا معائنہ کیا ہے
اخباری رپورٹوں کے مطابق صبح قریب پونے دس بجے جب دھماکہ ہوا تو اس وقت کنوینشن سینٹر میں دعائیہ اجتماع چل رہا تھا جس میں قریب 2000 سے زائد لوگ شریک تھے، ابتداء میں دھماکے سے ایک خاتون کی موت کی اطلاع ملی تھی، مگر بعد میں کیرالہ کی وزیر صحت وینا جارج نے بتایا کہ تھوڈپوزا کی رہنے والی 56 سالہ کماری بھی اتوار شام یہاں کے ایک اسپتال میں جھلسنے سے انتقال کر گئی۔ انہوں نے کہا ’’مختلف اسپتالوں میں لے جانے والے 51 زخمیوں میں سے 30 اب بھی زیر علاج ہیں۔‘‘ 18 شدید زخمی آئی سی یو میں ہیں۔ جبکہ ایک بچہ سمیت چھ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کو لے کر نامعلوم ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 302 (قتل) اور 307 (قتل کی کوشش) کے تحت ایک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی ہے، جس میں دھماکہ خیز مواد سے متعلق ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور انسداد دہشت گردی قانون (UAPA) ایکٹ کے تحت الزامات شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ دھماکوں میں دیسی ساختہ بم استعمال کیا گیا تھا۔ ریاستی پولیس کے سربراہ، شیخ درویش صاحب نے اس واقعہ کو "حیران کن" قرار دیا اور کہا کہ جانچ کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) قائم کی جائے گی۔
دھماکوں کے ردعمل میں کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا اور سانحہ کے ردعمل میں پیر کو ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی۔
کنوینشن سینٹر کے عینی شاہدین نے دھماکوں کے بعد خوفناک لمحات بیان کئے ہیں، بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے اور افراتفری پھیلنے کے بعد شرکاء خوف کے مارے بھاگ رہے تھے۔ ہال کے اندر افراتفری مچ گئی تھی۔ بعض لوگ آگ بجھانے اور زخمیوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دھماکوں کے ردعمل میں ریاست بھر میں حکام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، اور اس المناک واقعے کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیاہے۔