ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کیرالہ حکومت پولیس ترمیمی ایکٹ نافذ نہیں کرے گی سوشل میڈیا پر شدید احتجاج کے بعد فیصلہ

کیرالہ حکومت پولیس ترمیمی ایکٹ نافذ نہیں کرے گی سوشل میڈیا پر شدید احتجاج کے بعد فیصلہ

Mon, 23 Nov 2020 19:48:57    S.O. News Service

تروننت پورم،23 /نومبر(آئی این ایس انڈیا)ایل ڈی ایف حکومت نے سوشل میڈیا پر شدید احتجاج کے بعد متنازعہ کیرالہ پولیس ایکٹ میں تبدیلیوں کو نافذکرنے کے فیصلے کوموخر کردیا۔ اس ایکٹ کے تحت پولیس کو انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر کسی بھی قابل اعتراض مواد پر لامحدود حقوق دیئے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر قابل اعتراض یا ہتک عزت آمیز پوسٹوں پر 5 سال قید اور دس ہزار روپئے کا جرمانہ ہے۔وزیراعلیٰ پنرائی وجین نے پیر کو کہا کہ کیرالہ پولیس ترمیمی ایکٹ نافذنہیں ہوگا۔اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کیرالا حکومت کا قانون میں تبدیلی لانے کا اقدام اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔ یہ میڈیا اور ناقدین کی آوازوں کو کچلنے کی کوشش ہے۔ کانگریس اور دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے قانون میں تبدیلی کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا گیا کہ یہ ایل ڈی ایف حکومت کی جمہوریت کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ستارام یچوری نے بھی اس قانون پر نظر ثانی کرنے کی بات کی۔ وجین نے کہا کہ ایل ڈی ایف کے اتحادیوں اور جمہوریت کے حامی تمام طبقات کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ لہٰذا قانون میں تبدیلی کو نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وجین نے کہا کہ پولیس ایکٹ میں تبدیلی کے اعلان کے بعد مختلف علاقوں سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اس معاملے پر قانون ساز اسمبلی میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا اور تمام فریقین کی رائے لینے کے بعد مزید فیصلہ کیا جائے گا۔ کانگریس کے رہنما پی چدمبرم نے بھی اس نئے قانون کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے۔ میڈیا اور حکومت کے ناقدین کے خلاف اس کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔وجین نے اتوار کے روز دفاع میں کہا تھا کہ منصفانہ صحافت یا اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کے لئے کیرالہ پولیس ایکٹ میں کسی بھی طرح ترمیم نہیں کی جائے گی۔ تاہم گورنر عارف محمد خان نے ہفتے کے روز کیرالہ پولیس ایکٹ میں تبدیلیوں سے متعلق آرڈیننس کی منظوری دے دی۔ اس میں انٹرنیٹ یا کسی اور ذریعہ سے گستاخانہ یا ہتک عزت آمیز مواد شائع کرنے یا نشر کرنے والوں کے لئے 5 سال قید یا 10000 روپئے جرمانے یا دونوں کی سزا ہوسکتی تھی۔


Share: