ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیا کاروار سرنگوں کے لئے 'فٹنس سرٹیفکیٹ' محض نقشہ اور دستاویزات کی بنیاد پر دیا گیا تھا؟

کیا کاروار سرنگوں کے لئے 'فٹنس سرٹیفکیٹ' محض نقشہ اور دستاویزات کی بنیاد پر دیا گیا تھا؟

Tue, 10 Oct 2023 13:51:46    S.O. News Service

کاروار،  10 / اکتوبر (ایس او نیوز) کاروار میں نیشنل ہائی وے 66 پر تعمیر شدہ چار سرنگیں عوام اور موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت کے لئے محفوظ ہونے کے تعلق سے جو تنازعہ چل رہا ہے اس میں اب ایک اور موڑ آ گیا ہے ۔ 
    
یاد رہے کہ سرنگیں ٹریفک کے لئے کھولنے کے کچھ ہی دنوں کے اندر برسات شروع ہونے پر سرنگوں کی دیواروں سے پانی رِسنے لگا تھا جس پر ضلع انچارج وزیر اور رکن اسمبلی نے سرنگیں آمد و رفت کے لئے محفوظ ہونے کے تعلق سے سوال اٹھائے تھے ۔ ضلع انتظامیہ نے ان سرنگوں کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے  ٹریفک کے لئے یہ راستہ بند کر دیا تھا اور ٹھیکیدارکمپنی اور نیشنل ہائی وے اتھاریٹی سے مطالبہ کیا تھا سرنگ محفوظ کے تعلق سے معائنہ کروانے کے بعد ملنے والافٹنس سرٹیفکیٹ پیش کیا جائے ۔
    
اس کے دو تین دن کے اندر ہی ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی نے این ایچ اے آئی کے توسط سے جو پونا کی ایک کمپنی کی طرف سے حاصل کیا گیا 'فٹنس سرٹیفکیٹ' ضلع انتظامیہ کو پیش کیا تھا جس پر ضلع  انتظامیہ نے مزید سوالات اٹھاتے ہوئے جواب طلب کیے تھے ۔ اس دوران بی جے پی کے ایم ایل سی گنپتی ۔۔۔ نے اسے کانگریسی ایم ایل اے اور ضلع انچارج وزیر کے خلاف محاذ بنایا اورپارٹی سیاست کا رنگ دیتے ہوئے سرنگ کو عوامی احتجاج کے ذریعے کھلوانے کی کوشش کی ۔ 
    
عوامی دباو کو محسوس کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے یکم اکتوبر سے سرنگ کا راستہ ایک ہفتے کے لئے عبوری طور پر کھول دیا اور این ایچ اے آئی کو ہدایت دی کہ 8 اکتوبر تک فٹنیس سرٹفکیٹ کے تعلق سے پوچھے گئے تمام جوابات اور حقائق پیش کیے جائیں ورنہ دوبارہ سرنگ کو دوبارہ بند کر دیا جائے گا ۔
    
اب کالج آف انجینئرنگ پونے کی ٹیکنیکل یونیورسٹی محکمہ ارضیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سندیپ میشرام نے سرنگ کا معائنہ کرنے سے قبل ضلع ڈپٹی کمشنر اور ایم ایل اے ستیش سائل سے جو تبادلہ خیال کیا ہے اس سے گمان ہونے لگا ہے کہ این ایچ اے آئی نے اس سے قبل جو فٹنیس سرٹفکیٹ پیش کیا تھا وہ سرنگوں کا باضابطہ معائنہ کیے بغیر ہی محض نقشہ اور دستاویزات کی بنیاد پر جاری کیا تھا ۔ اس طرح ضلع انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ضلع کے عوام کو دھوکے میں رکھنے کی منصوبہ بند سازش کی گئی تھی ۔ 
    
ڈاکٹر میشرام نے اس سے پہلے فراہم کیے گئے  سرٹیفکیٹ کےبارے میں ضلع ڈی سی کو تفصیلات بتاتے  کہ سرنگ کی فٹنیس کے تعلق سے معائنہ کے لئے جس قسم کے آلات اور مشینوں کی ضرورت تھی ، میں نے اس کا استعمال نہیں کیا تھا ۔ سرنگ کی تعمیر کے لئے پہاڑوں کو توڑنے سے پہلے ہی  چٹان کی ساخت اور کیفیات کا معائنہ کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ سرنگ کی تعمیر سے قبل، درمیانی عرصہ میں اور پھر کام پورا ہونے کے بعد مرحلہ وار نگرانی اور معائنہ کرنا ہوتا ہے ۔ ان مراحل میں معائنہ کرنے کے لئے میں یہاں نہیں آیا تھا ۔ سرنگ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد تھرڈ پارٹی کے طور پر معائنہ کرتے ہوئے مجھے جو کچھ دیکھنا تھا وہی میں نے دیکھا تھا ۔ سرنگ کے متعلق ڈرائنگس اور پیپرس مجھے پہلے بھیجے گئے تھے ۔ میں نے ان کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے یہاں پہنچ کر سرنگ کا معائنہ کیا تھا ۔ 
    
پروفیسر ڈاکٹر میشرام نے بتایا کہ مجھ سے  فٹنس سرٹیفکیٹ این ایچ اے آئی یا ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی نے طلب نہیں کیا تھا ، بلکہ ایک کنسلٹنٹ ایجنسی نے مانگا تھا اس لئے میں نے وہ سرٹفکیٹ ضلع ڈپٹی کمشنر کو مخاطب کرکے نہیں دیا تھا ۔
    
معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر میشرام نے  برسات کے موسم میں سرنگوں میں پانی رسنے کا مسئلہ حل کرنے اور سرنگوں کی تعمیر کے سلسلے میں مزید کیا کام ہونا باقی ہے اسے پورا کرنے کے  سلسلے میں ضلع انتظامیہ کو صلاح و مشورہ دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ جس کے بعد میشرام کے مشوروں کے مطابق اگلے اقدامات کے لئے ضلع انتظامیہ کی طرف سے تحریری مطالبہ این ایچ اے آئی کو بھیجا جائے گا ۔
    
ڈپٹی کمشنر گنگو بائی مانکر نے بتایا کہ ٹھیکیدار کمپنی کی طرف سے سرنگوں کے لئے باضابطہ معائنہ کے بعدفٹنس سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرنے کا سبب یہ سامنے آیا ہے کہ ضابطے کے مطابق معائنہ کروانے کے لئے جن آلات اور مشینوں کی ضرورت تھی اور جن اصولوں کے تحت معائنہ ہونا چاہیے اس کے لئے معائنہ کی فیس 50 لاکھ سے 1 کروڑ روپے بنتی تھی کیونکہ سرنگوں کی تعمیر کا خرچ 50 کروڑ روپے ہے اور معائنے کے لئے اس خرچ  کا ایک فیصد چارج دینا پڑتا ہے ۔ یہ معائنہ آئی آئی ٹی سطح کے ماہرین سے ہونا چاہیے اور تعمیر کے ساتھ مرحلہ وار معائنہ چلنا چاہیے ۔ امید ہے کہ آئی آر بی والے یہ کام ضابطے اور پروسیجر کے مطابق انجام دیں گے ۔ 


Share: