بھٹکل 19 / اگست (ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی ہر سیاسی پارٹی کے اندر ہلچل شروع ہونا فطری بات ہے ۔ لیکن بھٹکل اسمبلی حلقہ میں جو سیاسی گپ شپ ہو رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ بی جے پی کے اندر ہی دو تین گروہ الگ الگ اپنا رنگ پکڑنے لگے ہیں اور خود اپنے ہی موجودہ ایم ایل اے کے خلاف ماحول تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گزشتہ مرتبہ اسمبلی انتخاب قریب آتے ہی بی جے پی سے ممکنہ امیدواروں کے جو نام سامنے آ رہے تھے ان میں کانگریس سے دل بدل کر بی جے پی میں شامل ہونے والے جے ڈی نائک ، بی جے پی کے سابق وزیر شیوا نند نائک اور سنگھ پریوار کے مقامی طور پر سینئر لیڈر کے طور پر اپنی پہچان بنانے والے گووند نائک کے نام شامل تھے ۔ اور گووند نائک کو ٹکٹ کے لئے بہت ہی مضبوط امیدوار مانا جا رہا تھا۔
مگر اچانک ہی ایک نئے چہرے سنیل نائک کا نام سامنے آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پارٹی نے انہیں ٹکٹ دے دیا ۔ سنیل نے بہت کم عرصہ میں پورے حلقہ میں اپنے لئے جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی اور اندرونی طور پر اختلافات ہونے کے باوجود الیکشن جیت کر دکھا دیا۔
الیکشن جیتنے کے بعد سے اب تک سنیل نائک نے اپنے حلقہ میں بی جے پی کے عام کارکنان اور دیہی عوام میں اپنی بڑی اچھی ساکھ بنائی ہے ۔ کووڈ کے دنوں میں گاوں اور قریوں میں گھوم پھر کر اور معاوضہ و امداد پہنچانے کے علاوہ دیہی علاقوں میں تعمیراتی کام کرتے ہوئے سنگھ پریوار کے جوشیلے نوجوانوں کو پوری طرح اپنے قبضے میں کرنے کی بڑی حد تک کامیاب کوشش کی ہے ۔ ہندوتوا وادی سوچ کے آدھار پر نوجوانوں کو اپنے قریبی اور حمایتی بنانے میں بھی وہ کامیاب نظر آتے ہیں ۔ اور سمجھا جا رہا ہے کہ بہتر کارکردگی کی بنیاد پر پارٹی کے لئے سنیل نائک کا نام ہی بطور امیدوار سب سے زیادہ قابل قبول ہوگا۔
لیکن اندرونی طور پر بی جے پی کے اندر کچھ نئے لیڈر ہیں جو اس وقت سنیل کے ساتھ تو دکھائی دیتے ہیں مگر وہ خود اپنا مستقبل بنانے کے لئے سنیل نائک کو کنارے لگا کر اپنے آپ کو پارٹی کا امیدوار بنانے کی جد وجہد میں لگے ہوئے ہیں ۔ اگر سیاسی گلیاروں کی چہ میگوئیاں سچ مانی جائیں تو ایک نام گووند نائک کا ہی ہے ۔ حالانکہ ابھی حال ہی میں گووند نائک کو مغربی گھاٹ ٹاسک فورس کا صدر نامزد کیا گیا ہے ، مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ گووند کی نظریں ایم ایل اے کی کرسی پر لگی ہوئی ہیں اور وہ اپنے حامیوں کا ایک گروہ تیار کرکے اپنے لئے ہوا بنانے میں مصروف ہیں۔
مبینہ طور پر سنیل کو ہٹا کر ایم ایل اے کا ٹکٹ پانے کی دوڑ میں دوسرا نام ایشور نائک کا مانا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی اپنے حامیوں کا گروہ بنا کر ووٹرس اور پارٹی کے سامنے اپنے آپ کو بطور امیدوار رکھنے کی ڈگر پر چل پڑے ہیں۔
چونکہ انتخابات کے لئے ابھی سات آٹھ مہینے باقی ہیں ، اس لئے دھیرے دھیرے مزید پہلو سامنے آتے جائیں گے اور ٹکٹ کا اعلان ہونے تک کھینچا تانی اور جد وجہد چلتی رہے گی ۔ دیکھیں گے کہ آنے والے دن کیا رنگ دکھاتے ہیں۔