بنگلورو، 30/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک میں جے ڈی ایس ۔ بی جے پی اتحادکے بعد بڑی تعداد میں مسلم رہنماؤں نے جے ڈی ایس اسے استعفیٰ دے دیا ہے جس سے سمجھا جارہا ہے کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں مسلم ووٹ تقسیم نہیں ہوں گے اور اس کا راست فائدہ کانگریس کو پہنچے گا۔
حالیہ واقعات پر کانگریس نے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لئے جنتا دل (سیکولر) اور بی جے پی کے درمیان اتحاد سے دونوں پارٹیوں کو کرناٹک میں بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور کئی مسلم رہنماؤں نے دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد کے کچھ دنوں کے اندر ہی پارٹی کو چھوڑ دیا ہے۔
کانگریس نے دعویٰ کیا کہ جے ڈی ایس اور بی جے پی کے درمیان اتحاد کا کانگریس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ کانگریس نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے پہلے ہی زمینی سطح پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ کرناٹک کے انچارج اے آئی سی سی سکریٹری ابھیشیک دت نے اخبارنویسوں کوبتایا کہ "جے ڈی-ایس-بی جے پی اتحاد کے کچھ ہی دنوں کے اندر ہی علاقائی پارٹی جے ڈی ایس کو نقصان پہنچا ہے۔ جے ڈی ایس کے کئی مسلم رہنماؤں نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے"
کانگریس رہنماؤں کے مطابق بی جے پی۔ جے ڈی ایس اتحاد کا باضابطہ طور پر اعلان ہونے کے چند ہی دنوں میں جے ڈی ایس کے شیموگہ یونٹ کے جنرل سکریٹری، شیموگہ یونٹ کے صدر، نائب صدر اور میڈیا ترجمان سمیت درجنوں مسلم رہنماؤں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دیودرگا اسمبلی سیٹ سے جے ڈی ایس رکن اسمبلی کریما نائک نے اتحاد پر سخت نکتہ چینی کی اور بی جے پی کو قبائلی مخالف پارٹی قرار دیا ۔
ریاستی کانگریس کے سینیئر لیڈر پرکاش راٹھوڈ نےکہا کہ’’مسلم لیڈر جے ڈی ایس کو چھوڑ رہے ہیں جس نے مایوسی کے عالم میں بی جے پی سے ہاتھ ملایا تھا۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں جے ڈی-ایس کا ووٹ شیئر بھی کم ہوا تھا۔ لیکن یہ اتحاد ان دونوں میں سے کسی کے لئے بھی فائدہ مند نہیں ہوگا، درحقیقت اس سے کانگریس کو مدد ملے گی‘‘۔
پرکاش راتھوڑ نے کہا کہ جے ڈی ایس ایک موقع پرست پارٹی ہے اور اس میں کوئی سیکولر لیڈر نہیں ہے۔ اسمبلی انتخابات میں جے ڈی ایس کا بی جے پی کے ساتھ گہرا سمجھوتہ تھا جہاں انہوں نے کئی سیٹوں پر کانگریس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہمنا آباد سیٹ پر ایک مشترکہ مسلم امیدوار کھڑا کیا جہاں ہم ہار گئے تھے"۔ کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ بی جے پی خاندانی سیاست پر کانگریس پر نکتہ چینی کر رہی تھی لیکن اب سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا اور ان کے بیٹے ایچ ڈی کمار سوامی کی جے ڈی ایس پارٹی سے ہاتھ ملا لیا ہے یہاں بی جے پی کو خاندانی سیاست نظر نہیں آئی۔
پرکاش راتھوڑ نے کہا کہ "بی جے پی نے مہاراشٹر میں بھی ایسا ہی کیا جہاں بی جے پی نے شرد پوار کی پارٹی کو بدعنوان قرار دینے کے چند دن بعد ہی این سی پی کے باغی رہنما اجیت پوار کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ بی جے پی کیمپ میں بھی مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ وہ قومی سطح پر ایک ڈوبتی ہوئی پارٹی ہیں، وزیراعظم مودی نے کرناٹک میں بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلائی لیکن وہ بی جے پی کو ہارنے سے نہیں بچاسکے، 2024 کے عام انتخابات میں بھی ایسا ہی ہوگا"۔