لکھنؤ، 12/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)لکھنؤسینٹرل اسمبلی سیٹ پرمعمولی فرق سے الیکشن ہارے سینئر ایس پی لیڈر روی داس مہروترا نے اپنی شکست کے لیے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے آج کہاکہ وہ اس پارٹی سے اتحادجاری رکھنے کو لے کر پارٹی فورم پر اپنی رائے رکھیں گے۔مہروترانے میڈیاسے بات چیت میں کہاکہ کانگریس سے سماج وادی پارٹی کے اتحاد کے باوجودلکھنؤسینٹرل سیٹ پرکانگریس نے معروف خاں کو اپنے امیدوارکے طورپرمیدان میں اتارکرانہیں الیکشن میں ہروا دیا۔اس علاقے میں ریاستی اسمبلی کے ساتھ ساتھ تمام وی آئی پی علاقے آتے ہیں اور یہاں انہیں شکست ملنے سے نہ صرف ان کی شبیہ خراب ہوئی ہے بلکہ پوری ریاست میں ایس پی کے خلاف غلط پیغام بھی گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی شکست کے لیے کانگریس ذمہ دارہے، اس پارٹی کے امیدوار نے تقریباََ13ہزار ووٹ کاٹ لیے۔ اگرکانگریس اپنا امیدوار کھڑا نہ کرتی تو وہ ووٹ انہیں مل جاتے اورانہیں بی جے پی امیدوار برجیش پاٹھک کے ہاتھوں 5094ووٹوں سے شکست کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔اس سوال پر کہ کیا وہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کو آگے جاری رکھنے کی مخالفت کرتے ہیں، میہروترا نے کہا کہ وہ اس بارے میں پارٹی فورم کے سامنے اپنی بات رکھیں گے۔غورطلب ہے کہ ریاست کی سبکدوش ہونے والے اکھلیش یادو حکومت میں کابینہ وزیر رہے مہروترا کو بی جے پی امیدواربرجیش پاٹھک سے5094ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔لکھنؤ سینٹرل سیٹ پرمسلم رائے دہندگان کی تعدادتقریباََ 28فیصد ہے۔ماناجا رہاہے کہ کانگریس کی جانب سے معروف خاں کے کھڑے ہونے کی وجہ سے ان کا ووٹ تقسیم ہو گیااوربی جے پی کوفائدہ ہو گیا۔