کاروار،27 / ستمبر (ایس او نیوز) ایسا لگتا ہے کہ ضلع انتظامیہ ، آئی آر بی اور نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا ( این ایچ اے آئی ) کے درمیان نیشنل ہائی وے 66 پر کاروار میں تعمیر شدہ سرنگ اور فلائی اوور کا تنازعہ طول پکڑتا جا رہا ہے ، کیونکہ این ایچ اے آئی کی طرف سے ضلع ڈپٹی کمشنر کو ضروری دستاویزات پیش کرنے کے بعد بھی سرنگ کا راستہ نہیں کھولا گیا ہے اور اب ڈپٹی کمشنر نے این ایچ اے آئی سے سرنگ اور فلائی اوور ٹریفک کے لئے محفوظ ہونے کا تحریری قرار نامہ طلب کیا ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کے ڈپٹی جنرل منیجر اور پروجیکٹ ڈائریکٹر این ہری کرشنا نے ضلع ڈپٹی کمشنر کو ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں 23 ستمبر کو ضلع ڈپٹی کمشنر اور رکن اسمبلی ستیش سیئل کے ساتھ منعقدہ میٹنگ میں ضلع انتظامیہ کی طرف سے طلب کیے گئے اگریمنٹ، سیفٹی آڈٹ، جوائنٹ سیفٹی سرٹفکیٹ جیسے تمام دستاویزات ضلع انتظامیہ کو سونپے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرنگ محفوظ ہونے کی بات ثابت کرنے والے ان دستاویزات کی بنیاد پر سرنگ کو آمدو رفت کے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔
دوسری طرف ضلع ڈپٹی کمشنر نے ان کاغذات کا جائزہ لینے کے بعد 26 ستمبر کو ہوناور میں موجود این ایچ اے آئی کے دفتر میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کو مراسلہ بھیجا ہے جس میں کاروار سے بینگا کو جوڑنے والی اور بینگا سے کاروار کو جوڑنے والی جو جڑواں سرنگیں ہیں انہیں عوامی استعمال کے لئے کھولنے کے لئے ضروری دستاویزات فوری طور پر جمع کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
ضلع ڈی سی نے این ایچ اے آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو سرنگ کا معائنہ کرتے وقت مرکزی یا ریاستی حکومت کے جو افسران موجود تھے، تھرڈ پارٹی انسپکشن کا کام انجام دینے والا ادارہ مستند ہونے کے دستاویزات وغیرہ جمع کروانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ سرنگ اور فلائی اوور کو عوامی آمد و رفت کے لئے کھولنے کے بعد اگر آئندہ کچھ ناگہانی بات ہوتی ہے تو اس کے لئے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا ہی پوری طرح ذمہ دار ہونے کا تحریری قرار نامہ دینے کی شرط رکھتے ہوئے ڈی سی نے کہا ہے کہ اسی صورت میں 8 جولائی کو جاری کیا گیا سرنگ بند کرنے کا نوٹی فکیشن واپس لیا جائے گا۔
ادھر نیشنل ہائی وے توسیعی کام کی ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی نے سرنگ کے آگے رکاوٹ کے طورپر ڈالی گئی جیلی کے ڈھیر کومنگل شام کو ہٹا دیا ہے اور اب وہاں داخلی راستے پر صرف چند بیریکیڈس رکھے ہوئے ہیں۔ اسے دیکھتے ہوئے بائک سواروں نے بیریکیڈس کو سرکاتے ہوئے سرنگ کے راستے گاڑیوں کو آگے بڑھانا شروع کردیا ہے ۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے رکن اسمبلی ستیش سئیل نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا اگر جواب ملتا ہے اور جو ضروری دستاویزات طلب کیے گئے ہیں وہ تمام دستاویزات اگر این ایچ اے آئی کی طرف سے فوراً جمع کروائے جاتے ہیں تو پھر سرنگ کا راستہ کھول دیا جائے گا۔