کاروار ،10 ؍ اکتوبر (ایس او نیوز)تعلقہ کے ماجالی قومی شاہراہ 66 پر ایک کار نے موٹر بائک کو ٹکر دے دی جس میں ایک نوجوان ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا، معاملے کو لے کر چتاکول پولیس اسٹیشن کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جو اتوار صبح سے اتوار کی شام تک جاری رہا۔ احتجاج کو دیکھتے ہوئے پولس نے فوری طور پر حادثہ کرکے فرار ہونے والی مبینہ کار پر سوار تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق جب گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت ہفتہ کی رات دکشن کنڑ ا میں منعقدہ پروگرام سے واپس گوا لوٹ رہے تھے تو اتر کنڑا کی پولیس نے کاروار سے گوا کی سرحد تک زیرو ٹریفک کے ذریعے راستہ صاف رکھا تھا اس دوران ماجالی ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر سے29 سالہ سورج رانے نامی نوجوان ہلاک اوراس کا دوست جسٹن پال ڈیسوزا (22) شدید زخمی ہوگیا۔ حادثہ کو لے کر احتجاجیوں کا الزام ہے کہ پولیس نے قومی شاہراہ 66 پر روڈ کو یک طرفہ کردیا تھااور سڑک کے دوسری طرف وزیر اعلیٰ کی کار کو آگے بڑھانے زیرو ٹریفک کردی تھی عوام کے مطابق سڑک کے دوسری طرف دونوں طرف سے گاڑیاں آنا شروع ہو گئیں، جس کے تعلق سے پولس نے عوام کو کسی بھی طرح کی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔ کونکن واڑہ کے رہنے والے سورج رانے اور اس کے دوست جسٹن پال ڈیسوزا کو بھی یکطرفہ روڈ کو زیرو ٹریفک کرنے اور دوسرے راستے پر سواریوں کو آنے اور جانے کی سہولت دینے کا علم نہیں تھا۔
اس دوران جب ان دونوں نے ایک لاری کو غلط سمت سے آنے پر روک کر اس سے پوچھ رہے تھے کہ وہ ون وے کے خلاف غلط راستے سے کیوں آرہے ہو تو اچانک ایک تیز رفتار کار ان کی بائیک سے ٹکرا گئی۔ جس کے نتیجے میں بائک سوار سورج رانے ہلاک ہوگیا اور اس کا دوست ڈیسوزا شدید زخمی ہوگیا۔
اس بات کو لے کر مشتعل ہجوم چیتا کول پولیس اسٹیشن کے سامنے جمع ہوگیا اور احتجاج کرنے لگا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس نے گوا چیف منسٹر کے لئے زیرو ٹریفک کا جو انتظام کیا تھا اس سلسلے میں عوام کو آگاہ نہیں کیا تھا ۔ حادثہ کا سبب بننے والے کار ڈرائیور کو گرفتار نہ کرنے پر بھی عوام نے برہمی کا اظہار کیا ۔ حالانکہ کچھ دیر کے لئے ماحول کشیدہ ہوگیا تھا مگر پھر پولیس نے کار پر سوار تین لوگوں گرفتار کرتے ہوئے حالات پر قابو پا لیا ۔