بنگلورو،26؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) ریاستی وزیر برائے ترقیات بنگلو ر کے جے جارج آج اس وقت شدید مشکل میں آگئے جب سی بی آئی نے ڈی وائی ایس پی ایم کے گنپتی کی مبینہ خود کشی کے معاملے میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کردیا۔ آج اس سلسلے میں سی آئی ڈی کی تحقیقاتی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد اپنی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے سی بی آئی نے کے جے جارج سمیت ریاست کے دو سینئر آئی پی ایس افسران کے خلاف بھی کارروائی کی اور ان کے خلاف بھی دوسرے اور تیسرے ملزم کے طور پر ایف آئی آر درج کردیا۔مرکیرہ کے ایک لاڈج میں ڈی وائی ایس پی ایم کے گنپتی کی خود کشی کے معاملے کی ریاستی سی آئی ڈی نے جانچ کرتے ہوئے کے جارج اور دیگر افسران کو کلین چٹ دے دی تھی۔تاہم سی آئی ڈی کی اس جانچ کا چیلنج کرتے ہوئے گنپتی کے والد سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے اور سپریم کورٹ نے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کے ذریعہ کرانے کی ہدایت جاری کی۔ عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے آج سی بی آئی نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کیا اور اپنے ایف آئی آر میں اس وقت کے وزیر داخلہ کے جے جارج کو پہلا ملزم قرار دیا، جبکہ ریاستی خفیہ محکمہ کے سربراہ اے ایم پرساد کو تیسرا ملزم اور لوک آیوکتہ کے آئی جی پی پرناب موہنتی کو دوسرا ملزم قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کردیا ہے۔ اس سے پہلے ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد کے جے جارج کو بحیثیت وزیر داخلہ اپنے عہدہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا، اب سی بی آئی کی طرف سے ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ایک بار پھر ریاستی وزارت میں ان کے بنے رہنے کا امکان مشکوک نظر آرہا ہے۔