نئی دہلی:8/ اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ڈسکوڈ اسمال فیلڈ پالیسی کے دوسرے دور کا نیلام 9 اگست 2018 کو اہتمام کیا جائے گا۔اس تقریب کی صدارت پٹرولیم اور قدرتی گیس ہنر مندی کے فروغ اورکاروباری امور کے مرکزی وزیر جناب دھرمیندر پردھان کریں گے۔ہندوستان 2.6کھرب امریکی ڈالر کی مالیت کے ساتھ دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے اورحال ہی میں فرانس کو پیچھے چھوڑ کر اور برطانیہ کو بہ یک جست پار کرکے دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کی حیثیت حاصل کرلے گا۔ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا بجلی صارف ملک ہے۔توقع ہے کہ ہندوستان میں توانائی کی کھپت میں 4.2فیصد اضافہ ہوجائے گا، جو تمام بڑے ملکوں سے زیادہ تیز رفتار ہے ۔ انٹر نیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے ) کے مطابق امید ہے کہ 2040 تک ہندوستان میں توانائی کی کھپت عالمی نمو کی درجہ بندی میں تیسرے مقام پر پہنچ جائے گا۔سرکارنے متعدد دیگر اصلاحات کے علاوہ اوپن ایکریج لائسنسنگ پالیسی (او اے ایل پی ) اور ڈسکورڈ اسمال فیلڈ پالیسی (ڈی ایس ایف ) جیسے اقدامات کے ذریعہ ٹھیکیداری کی نئی پالیسیوں پر عمل درآمد کیا ہے ۔یہ اقدامات وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے معین کردہ چا ر توانائی ستونوں پر مبنی ہے ۔توانائی کے یہ چار ستون ہیں ، توانائی تک رسائی ، توانائی کی موثریت ،توانائی کی پائیداریت اور توانائی کی سلامتی ۔پٹرولیم اورقدرتی گیس کی وزارت نے سال 2016 میں ڈسکورڈ اسمال فیلڈ پالیسی (ڈی ایس ایف ) شروع کی تھی ۔جس کا مقصد غیر درجہ بند چھوٹے تیل اور گیس کے ذخیروں سے تیل اور قدرتی گیس نکالنا ہے ۔یہ ذخائر ملک میں موجودہیں ۔ اس کے ساتھ ہی اس پالیسی میں نئے اور موجودہ دعوے داروں کے ساتھ سرمایہ کاری کے بھی آسان متبادل موجود ہیں ۔پٹرولیم اورقدرتی گیس کی وزارت کا ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہائیڈروکاربن (ڈی جی ایچ ) ڈی ایس ایف کی پالیسی کی عمل آوری پر نظر رکھتا ہے اور حکومت ہند کی جانب سے اس صنعت میں نئے دعوے داروں کی توجہ منعطف کرنے کی مسلسل کوششیں جاری رکھتا ہے ۔سرکار نے ڈی ایس ایف کے پہلیدور کے نیلام میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی۔اس دور کا نیلام دس ماہ کی ریکارڈ میں مکمل کرلیا گیا تھا۔ نیلامی کے لئے پیش کئے جانے والے 34 بلاکوں کے لئے 134 بولی دہندگان نے بولیاں دی تھیں ۔جس کے نتیجے میں 20 کمپنیوں کو 30 ٹھیکے دئے گئے تھے ، جن میں ای اینڈ پی کے شعبے کے 13 نئے ادارے شامل ہیں۔توقع ہے کہ 20-2019 تک پہلے ٹھیکے کا تیل ؍ گیس نکلنا شروع ہوجائے گی ۔پہلے دور کے نیلام کی کامیابی کی حوصلہ افزائی کے ساتھ اور اس شعبے میں صنعتی دنیا بالخصوص پرائیویٹ سیکٹر کی خصوصی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے سرکار اب ڈی ایس ایف کے دوسرے دورکی نیلامی کا اہتمام کررہی ہے۔جس میں کاروباری طور سے زبردست پیداوار ی اہمیت کے حامل بڑے میدان نیلام کے لئے پیش کئے جائیں گے۔