بنگلورو: 13 اگست (ایس او نیوز ) بینگلور چامراج پیٹ عید گاہ کوسرکاری املاک قرار دیتے ہوئے حال ہی میں بروہت بنگلورو مہا نگر پالیکے (بی بی ایم پی) کے جوائنٹ کمشنر کی طرف سے جو حکم نامہ جاری کیا گیا تھا اس کو کرناٹک اسٹیٹ بورڈ آف اوقاف نے کرناٹک وقف ٹربیونل میں چیلنج کیا ہے اور ٹریبونل سے گزارش کی ہے کہ بی بی ایم پی کے ایک ذیلی افسر کی طرف سے جاری اس حکم نامہ کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ روزنامہ سالار کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز اس سلسلہ میں ریاستی وقف بورڈ کی طرف سے ٹریبونل کے سامنے عرضی دائر کی گئی اور جمعہ کے روز ٹر یبونل کی بینچ ایم ایف پٹھان نے اس عرضی کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوۓ بی بی ایم پی کے چیف کمشنر اور جوائنٹ کمشنر کو ایک ہنگامی نوٹس جاری کردی۔
وقف بورڈ کی طرف سے ٹریبونل کے سامنے اس معاملہ میں عرضی دائر کر نے والے وکیل زبیر نے بتایا کہ ٹریبونل سے درخواست کی گئی ہے کہ بی بی ایم پی کے جوائنٹ کمشنر کی طرف سے عید گاہ کی زمین کو محکمہ محصولات کی ملکیت قرار دیتے ہوۓ جو یکطرفہ حکم نامہ صادر کیا گیا ہے اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے اس لئے اس حکم کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ عرضی کی سماعت ممکن ہے کہ یوم آزادی تقریبات کے فوری بعد ہو ۔ اس دوران ریاستی وقف بورڈ کے چیر مین شافع سعدی نے بتایا کہ بی بی ایم پی سے وقف بورڈ نے چامراج پیٹ عید گاہ کی زمین کیلئے کھاتہ منظور کرنے کی درخواست دی تھی نہ کہ اس کی ملکیت کے متعلق کوئی مقدمہ دائر کیا تھا جس پر جوائنٹ کمشنر نے حکم صادر کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی بی ایم پی جو خود اس زمین پر اپنی ملکیت کا دعوی کر رہی ہے، اسے یہ اختیار بالکل نہیں کہ اس زمین کی ملکیت کسی اور کے نام کر دے۔ چیرمین نے بتایا کہ بی بی ایم پی کے اس حکم نامہ کا اجراء دراصل چامراج پیٹ عید گاہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی صریح توہین ہے اس لئے وقف بورڈ اس معاملہ میں بی بی ایم پی کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا کیس درج کرنے کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ میں بی بی ایم پی کے تازہ حکم کے خلاف رٹ عرضی دائر کر نے کی تیاری کر رہا ہے ۔ اگلے دو چار دنوں کے اندر یہ دونوں عرضیاں دائر کر دی جائیں گی۔