بنگلورو:3/اپریل(ایس او نیوز) سنگین خشک سالی کی صورتحال سے پریشان ریاست کے خشک علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت سے نمٹنے کیلئے 200 کروڑ روپیوں کی افزود رقم فوراً جاری کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے، یہ بات آج وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے بتائی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پانی کی قلت کے مسئلے کی سنگینی کا جائزہ لینے کے بعد محکمہئ مالیات کو سخت تاکید کی گئی ہے کہ فوراً دو سو کروڑ روپے جاری کئے جائیں۔ ریاستی حکومت کی طرف سے پینے کے پانی کے قلت کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھایا جارہا ہے۔ اراکین اسمبلی کی صدارت میں ہر حلقہ کی سطح پر ایک ٹاسک فورس قائم کیا گیاہے، پہلے مرحلے میں 189 اسمبلی حلقوں کو 50لاکھ روپیوں کے حساب سے 95کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں، ان میں سے 91 کروڑ روپے صرف کئے گئے ہیں۔ اس رقم سے 6930 کاموں کو مکمل کرلیا گیاہے۔ان ٹاسک فورسوں کو دوسرے مرحلے میں 106.04 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں،جن سے 7610 کام پورے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے 160 تعلقہ جات جو 182 اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہیں انہیں خشک سالی سے متاثرہ قرار دیاگیا ہے۔ تیسرے مرحلے میں پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے ہر تعلقہ کو 74.90کروڑ روپیوں کی رقم ضلع پنچایت صدر کی ایمر جنسی فنڈ کے ذریعہ جاری کی گئی ہے۔ضلع پنچایت چیف ایگزی کیٹیو افسران کی طرف سے ہر تعلقہ کو 50 لاکھ روپے بلاتاخیر جاری کردئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ خشک سالی کے سبب جن کسانوں کی فصلیں تباہ ہوئی ہیں ان کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی طرف سے 1685کروڑ روپے دو قسطوں میں منظور کئے گئے ہیں، انہوں نے کہاکہ فصل کی تباہی سے متاثرین کی امداد کیلئے مرکزنے پہلی قسط میں 450کروڑ روپے اور دوسری قسط میں 1235 کروڑ روپے جاری کئے ہیں۔ جیسے ہی یہ رقم ریاستی خزانہ میں جمع ہوگی اس رقم کو کسانوں کے بینک کھاتوں میں راست طور پر جمع کرنے کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے 1.21لاکھ کسانوں کو حکومت کی طرف سے 671.20کروڑ روپیوں کی ان فٹ سبسیڈی جاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فصل کی تباہی کے متاثرین کو حکومت کی طرف سے 6800 روپے فی ہیکٹر ادا کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ گلبرگہ ڈویژن میں رواں سال تور کی دال کی پیداوار بہت اچھی رہی ہے، 71لاکھ کوئنٹل دال کی پیداوار ہوئی ہے۔