ایٹہ نگر30دسمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اروناچل پردیش کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔اروناچل پردیش پیپلز پارٹی (پی پی اے)نے ریاست کے وزیراعلیٰ پیماکھانڈو، نائب وزیراعلیٰ چوونا مین سمیت 7لیڈران کو معطل کر دیا ہے۔معطل لیڈران میں جیم بی ٹاشی،پاسانگادورجی سونے، جگنو نام چوم اور کاملنگ موسانگ شامل ہیں۔گزشتہ ستمبر میں پیما کھانڈو اپنے 42حامیوں کے ساتھ پی پی اے میں شامل ہوئے تھے۔پی پی اے صدر کاہفا بینگیا نے بتایا کہ یہ لوگ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں،پارٹی نے ان لوگوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے ان کی ابتدائی رکنیت منسوخ کر دی ہے،پارٹی کے اس قدم کے بعدسے پیما کھانڈو اب پی پی اے پارٹی اراکین کے لیڈر نہیں ہیں۔پارٹی نے اس فیصلے کے بارے میں اسمبلی کے صدر کو بھی خط لکھ کر آگاہ کیا ہے۔بتا دیں کہ یہ ریاست گزشتہ ایک سال سے سیاسی اٹھاپٹک کا گواہ رہا ہے۔گذشتہ دسمبر میں کانگریس کی قیادت والی حکومت کے 19رکن اسمبلی باغی ہو گئے تھے،ان کے ساتھ 2آزاد ممبر اسمبلی بھی تھے،اس وقت نبم تکی وزیر اعلیٰ تھے،باغی لیڈر کلکھو پل خود وزیر اعلی بننا چاہتے تھے۔پارٹی میں بغاوت ہونے سے مرکزی حکومت نے صدر راج لگادیاتھا،بعد میں کلکھو پل نے بی جے پی کے تعاون سے اکثریت ثابت کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن کانگریس نے مرکزی حکومت کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔کورٹ نے مرکزی حکومت کے اقدام کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے نبم تکی کو ہی بحال کر دیا تھا۔اگست کے مہینے میں کانگریس سے دور ہوئے کلکھو پل نے خود کشی کر لی تھی۔