نئی دہلی:06/جولائی(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے ایکزیکیوٹیو چیرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر کے گورنر این این ووہرہ پر زور دیا ہے کہ وہ جموں وکشمیر آئین کے سیکشن 53کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کردیں جو پی ڈی پی۔بی جے پی حکومت کے، جسے گورنر نے جموں وکشمیر آئین کے سیکشن 92کے تحت برخاست کردیا تھا، بعد اپنی مطابقت اور اعتبار کھوچکی ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے گزشتہ روز صدر ہند سے نئی دہلی میں ملاقات کرکے انہیں جموں وکشمیر حکومت کو برخاست کئے جانے کے بعد پیداہوئی صورتحال سے واقف کرایا تھا۔آئینی امور کے ماہر پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے آئین کے تحت وہاں انحراف قانون نافذ ہے جس کے مطابق کوئی رکن اسمبلی اپنی اصل پارٹی چھوڑکر دوسری پارٹی میں شامل نہیں ہوسکتا اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو خود بہ خود اسی وقت اس کی رکن اسمبلی کی حیثیت ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی اراکین اسمبلی کو بے وقوف بنانے، عام لوگوں اور میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ وہ حکومت سازی کے لئے کسی سیاسی جماعت سے اتحاد نہیں کررہی ہیں۔پنتھرس سربراہ نے گورنر پر زور دیا کہ وہ قومی اتحاد کے مفاد میں دانائی سے کام لیں اور ریاستی اسمبلی کو تحلیل کردیں جو عوام کو استحصال اور گمراہی سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں غالباًً اگلے برس ہونے والے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ بی جے پی اس صدی میں تو پھر سے جموں وکشمیر میں اقتدار میں آنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔