ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پناہ کے لیے آنے والے تین ماہ میں قریب ستر ہزار جرائم میں ملوث

پناہ کے لیے آنے والے تین ماہ میں قریب ستر ہزار جرائم میں ملوث

Fri, 10 Jun 2016 17:34:10    S.O. News Service

برلن،10جون(آئی این ایس انڈیا)وفاقی جرمن پولیس کی ایک تازہ اور اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ کے مطابق سال رواں کی پہلی سہ ماہی میں پناہ گزینوں کی جانب سے قریب ستر ہزار جرائم یا جرائم کی کوششیں کی گئیں۔سیاسی پناہ کے لیے جرمنی آنے والے مہاجرین نے سال رواں یعنی سن 2016 کی پہلی سہ ماہی میں 69,000 جرائم کیے، یا کرنے کی کوشش کی۔ یہ انکشاف جرمن پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے اور ممکنہ طور پر ہجرت مخالف گروہوں میں مہاجرین کے حوالے سے چانسلر انگیلا میرکل کی آزادانہ پالیسیوں کے بارے میں بے چینی اور الجھن کا سبب بنے گا۔گزشتہ برس مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور چند ایشیائی ریاستوں سے تقریباً 1.1 ملین تارکین وطن نے پناہ کے لیے جرمنی کا رُخ کیا۔ نتیجتاً اس حوالے سے کئی سوالات و خدشات پائے جاتے ہیں کہ یورپ کی سب سے مستحکم معیشت میں ریکارڈ تعداد میں اِن مہاجرین کے انضمام اور داخلی سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔جرمنی کے انسداد جرائم کے وفاقی دفتر (BKA) کی رپورٹ کے مطابق جرائم یا ان کی کوشش کرنے والوں میں اکثریت شمالی افریقی ممالک سمیت جارجیا اور سربیا کے شہریوں کی دکھائی دی۔ جرمنی میں سیاسی پناہ کے لیے آنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد شامی اور پھر افغان اور عراقی شہریوں کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ان ملکوں کے مہاجرین کی جانب سے جرائم کی تعداد زیادہ تھی تاہم اگر ان کا موازنہ ان ملکوں کے پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد سے کیا جائے، تو ان کا تناسب کم ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ شامی، افغان اور عراقی شہریوں کی جانب سے کیے گئے جرائم کے حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ رپورٹ میں اس بارے میں بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ 69,000 مجموعی جرائم میں کتنی مختلف اقسام کی کارروائیاں شامل ہیں اور نہ ہی اس بارے میں کہ ملک میں مجموعی جرائم سے موازنہ کیا جائے، تو مہاجرین کی طرف سے کیے گئے جرائم کا تناسب کیا رہا۔ تاہم جرمن وفاقی پولیس کی اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مہاجرین کی ایک بہت بڑی اکثریت جرائم پیشہ کارروائیوں میں ملوث نہیں۔رپورٹ کے مطابق تارکین وطن کی جانب سے کیے گئے جرائم میں سب سے زیادہ چوری کی وارداتیں شامل تھیں، جن کا تناسب 29.2 فیصد رہا۔ پراپرٹی یا جعلی دستاویزات سے متعلق جرائم کا تناسب 28.3 فیصد جب کہ جسمانی نقصان پہنچانے، ڈکیتی اور غیر قانونی حراست سے جڑی کارروائیوں کا تناسب تیئس فیصد رہا۔ مجموعی تعداد میں منشیات سے متعلق جرائم کا حصہ 6.6 فیصد اور جنسی جرائم کا حصہ صرف 1.1 فیصد رہا۔جرمن شہر کولون میں نئے سال کی آمد کے موقع پر سینکڑوں لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے علاوہ ان کے ساتھ لوٹ مار بھی کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق ان واقعات میں اکثریتی طور پر شمالی افریقی اور عرب دکھائی دینے والے افراد ملوث تھے۔ استغاثہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ حال ہی میں ایک میوزک فیسٹیول میں لڑکیوں کے ساتھ بد تمیزی اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعے کے تحقیقات کے سلسلے میں تین پاکستانی پناہ گزینوں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔جرمنی کے انسداد جرائم کے وفاقی دفتر (BKA) کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے مارچ کے درمیان مہاجرین کی جانب سے کیے جانے والے جرائم میں اٹھارہ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جرمن وفاقی پولیس کی جانب سے مہاجرین کے جرائم پر ایک باقاعدہ رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں جرمنی کے تمام سولہ صوبوں کے اعداد و شمار شامل ہیں۔


Share: