نئی دہلی،24؍اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)نوٹ بندی ، جی ایس ٹی، بے روزگاری اور کسانوں کی حالت زار زار جیسے نکات پر اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوکر حکومت کے خلاف سڑکوں پر اترے گی ۔واضح ہوکہ یہ سب پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل کئے جائیں گے ۔ ساتھ ہی اپوزیشن نے حکومت کو گھیرنے کی ٹھان لی ہے ۔ حزب اختلاف جماعتیں8 نومبر کو ملک بھر میں ’’یوم سیاہ‘‘ منانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ گشتہ سال 8 نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی نے نصف شب کے بعد نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا ۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد کے پارلیمنٹ ہاؤس واقع دفتر میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشترکہ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ اس مشترکہ میٹنگ میں راجیہ سبھا ایم پی شرد یادو، ترنمول کانگریس کے ڈیریک او برائن، سی پی آئی اے راجہ اور بی ایس ایس کے ستیش چندر مشرا کے ساتھ بہت سے حزب اختلاف کے لیڈران موجود تھے ۔ ہماچل پردیش اور گجرات انتخابات کے تناظر میں تبادلہ خیال بھی ہوا۔ایک سینئر کانگریس رہنما نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے بعد متعلقہ پروگراموں کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں بھی اپوزیشن نوٹ بندی کے بعد ملک میں پیدا ہوئے تکلیف دہ صورتحال ، جی ایس ٹی کو لے کر پریشانی اور بے روزگاری جیسے اہم تشنہ خطوط پر سوال قائم کرے گی ؛کیونکہ ملک کی معیشت انتہائی چیلنج بھرے دور سے گزر رہی ہے۔ حزب اختلاف جماعتیں منگل کو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کا رسمی اعلان کر سکتی ہیں۔ پارٹی کے ایک لیڈر نے کہا کہ جے ڈی یو لیڈر شرد یادو کی راجیہ سبھا کی رکنیت کو لے کر بھی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ حزب اختلاف کی جماعتیں متحد ہیں اور یہ بھی راجیہ سبھااسپیکر کے سامنے اس اہم مدعا کو پیش کرنے پر بھی غو رکررہے ہیں۔