واشنگٹن،9؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکامیں ریپبلکن امیدوارڈونلڈٹرمپ کی کامیابی نے جرمن حلقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ تقریباً تمام ہی بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس نتیجے پر حیرت کااظہارکیاجا رہاہے۔جرمن وزیر دفاع ارزولا فان ڈیئر لائن نے ملکی ٹیلی ویژن چینل اے آر ڈی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی حیرت انگیز ہے۔ ان کے بقول ٹرمپ کا امریکی صدر بننا ایک بڑے جھٹکے سے کم نہیں۔ فان ڈیئر لائن کے مطابق، میرے خیال میں عوام نے ووٹ ٹرمپ کونہیں دیے بلکہ عوام نے واشنگٹن اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یورپی ممالک کو یہ دیکھنا ہے کہ ٹرمپ اس اتحاد کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی (سی ڈی یو)کے خارجہ امور کے سیاستدان نوربرٹ رؤٹگن نے امریکامیں ہونے والی اس پیش رفت کو یورپ کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ قراردیاہے۔ ان کے بقول یہ نتیجہ امریکی معاشرے میں شدیدقسم کی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، یہ صورتحال ہمارے لیے خطرے کی ایک علامت ہے۔ نوربرٹ رؤٹگن نے کہاکہ ٹرمپ کو ویسے ہی قبول کرنا پڑے گا، جیسا انہوں نے خود کو پیش کیا ہے۔ماحول دوست گرین پارٹی کے رہنما چیم اوئزدے میر نے کہا کہ مغربی ممالک کی روایت رہی ہے کہ وہ ہمیشہ لبرل قوتوں کے ساتھ رہے ہیں اور آج امریکا کے صدارتی انتخابات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب تک کی یہ روایت ٹوٹ گئی ہے۔ سوشل ڈیموکر یٹک سیاستدان نیلز آنن کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک روایتی امیداور سے مختلف انداز اختیار کریں گے۔بائیں بازو کی جماعت ڈی لنکے کے بیرنڈ ریکسنگر، پیشنگوائی کرتے ہیں کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام سے ہر طرح کے وعدے کیے ہیں اور یقین دہانیاں کرائی ہیں اور وہ صدر بننے کے بعد عوام کو کچھ بھی نہیں دے سکیں گے۔ ان کے مطابق ٹرمپ امریکا کو ایک آمرانہ طرز کے معاشرے کی جانب لے جائیں گے۔