بنگلورو:31/مارچ(ایس او نیوز) قومی لاء کمیشن کی سفارش کے مطابق وکلاء ترمیمی بل 2017 کی مخالفت کرتے ہوئے آج ریاستی ہائی کورٹ سمیت ریاست بھر کی تمام عدالتوں میں وکیلوں نے کام کاج کا بائیکاٹ کردیا۔ لاء کمیشن کی طرف سے وکلاء ایکٹ 1961 میں چند ترمیمات مرکزی حکومت کو تجویز کی گئی ہیں، ان تجاویز سے پیشہ ئ وکالت کو نقصان پہنچنے اور وکیلوں کے بنیادی حقوق کو دھکا لگنے کی شکایت کرتے ہوئے وکیلوں نے آج ریاست بھر میں عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا۔ ریاستی بار کونسل کے کو چیرمین وائی آر سداشیوریڈی نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہاکہ لاء کمیشن کی ترمیم شدہ بل کے مطابق اگر کسی کیس میں کسی مدعی کو انصاف نہیں ملا اور اگر ثبوت دستیاب ہیں کہ اس کے وکیل نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے تو اس کے خلاف شکایت اور مقدمہ درج کرسکتا ہے، اس سے نمٹنے کیلئے ضلع میجسٹریٹ کی قیادت میں ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اگر کسی وکیل نے ایسا دھوکہ کیا اور الزام ثابت ہوجائے تو اس پر تین سے پانچ لاکھ روپیوں تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا اور یہی رقم مدعی کو بطور ہرجانہ ادا کی جائے گی۔ وکیلوں نے اس ترمیم کی سخت مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ کسی مدعی نے اگر بدنیتی سے وکیلوں کو پھنسا دیا تو اس سے پریشانی ہوگی۔ وکیل سدا شیوریڈی نے کہاکہ مرکزی حکومت اور لاء کمیشن کی یہ تجویز قطعاً ناقابل قبول ہے۔ بنگلور اڈوکیٹ اسوسی ایشن کے صدر ایچ سی شیورام نے بتایاکہ بار کونسل کے انتظامیہ بورڈ کیلئے مرکزی حکومت وکیلوں کے علاوہ چارٹیڈ اکاؤنٹنٹ،کمپنی سکریٹریز، سماجی سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کے علاوہ مینجمنٹ ڈگری رکھنے والوں کو مقرر کرنے کا منصوبہ لاء کمیشن کی طرف سے رکھا گیا ہے، یہ تقررات سپریم کورٹ کی طرف سے راست طور پر کرنے کیلئے مجوزہ بل میں صراحت کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کے اس اقدام کو ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا۔جب تک مرکزی حکومت یہ بل واپس نہیں لے گی وکیلوں کی طرف سے عدالتوں کا بائیکاٹ برقرار رہے گا۔ اس دوران حسب معمول عدالتی کارروائیاں چلانے کیلئے جب جج ہائی کورٹ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وکیلوں نے اپنا بائیکاٹ جاری رکھا ہے، جس کے سبب تمام جج کورٹ ہال سے نکل کر اپنے گھر لوٹ گئے، سٹی سیول کورٹ میں بھی یہی صورتحال رہی، وکیلوں نے کوئی کارروائی چلنے نہیں دی۔