بھٹکل 13 جون (ایس او نیوز) کرناٹک کے ویسٹرن ٹیچرس حلقہ میں آج ہوئے ودھان پریشد انتخابات میں بھٹکل میں 81.99 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ یعنی بھٹکل تعلقہ میں 211رائے دہندگان میں سے 173 ٹیچروں نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ 173 میں ووٹ دینے والے مرد ٹیچرس 109 اور خواتین ٹیچر س 64 رہے۔
یاد رہے کہ ویسٹرن ٹیچرس حلقہ میں دھارواڑ، گدگ، ہاویری اور اُترکنڑا یعنی چار اضلاع آتے ہیں اور یہاں کے جملہ ووٹروں کی تعداد 17244 ہے۔ ضلع اُترکنڑا میں ووٹروں کی تعداد 3605 ہے جس میں سب سے زیادہ ووٹرس کاروار سے 623 ہیں۔ جوئیڈا میں 140، یلاپور میں 135، انکولہ میں 311، کمٹہ میں 416، ہوناور میں 360، بھٹکل میں 211، سداپور میں 231، سرسی میں 516، منڈگوڈ میں 252، ہلیال میں 215 اور ڈانڈیلی میں 190 ووٹرس ہیں۔ ضلع اُترکنڑا میں جملہ 15 پولنگ بوتھوں پر آج پیر صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک انتخابی کاروائی مکمل ہوئی ۔ بھٹکل میں منی ودھان سودھا میں ووٹنگ کے لئے انتظامات کئے گئے تھے۔ جہاں ٹیچر ووٹروں نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ 15 جون کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔
ویسٹرن ٹیچر حلقہ میں ودھان پریشد انتخابات کے لئے اس بار کانگریس کی طرف سے بسوراج گوریکار، بی جے پی کی طرف سے بسوراج ہوراٹّی، جے ڈی ایس کی طرف سے شریشائیلا گوڈدینّی سمیت جملہ سات اُمیدوار میدان میں ہیں۔ اس سے قبل بسوراج ہوراٹّی جےڈی ایس کی ٹکٹ پر سات مرتبہ ودھان پریشد انتخابات میں جیت درج کرچکے ہیں، اس بار انہوں نے سیکولر کا مکھوٹا اُتار کر بی جے پی میں جوائن ہوتے ہوئے انتخابات میں کھڑے ہیں، اگر اس بار بھی وہ جیت درج کرتے ہیں تو یہ ایک ریکارڈ ہوسکتا ہے، بتایا جارہا ہے کہ اس بار بی جے پی اور کانگریس کے درمیان راست مقابلہ ہوگا اور اگر کانگریس کے بسوراج گوریکار جیت درج کرتے ہیں تو وہ اُن کی پہلی جیت ہوگی۔
بتاتے چلیں کہ بھٹکل میں دو ہزار سے بھی زائد ٹیچرس ہیں جو اگر اپنا نام ووٹر لسٹ میں درج کراتے ہیں تو بھٹکل میں ووٹروں کی تعداد سے کسی کی بھی قسمت کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ مگر ان میں سے صرف 211 ٹیچروں نے ہی اپنے نام رجسٹرڈ کرائے ہیں جس میں سے 172 نے آج کے انتخابات میں ووٹنگ میں حصہ لیا۔
آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن کے ریاستی صدر جناب محمد رضامانوی نے بتایا کہ ودھان پریشد انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ہائی اسکول میں کم از کم تین سال خدمات انجام دینا ضروری ہے۔ مزید بتایا کہ انتخابات سے قریب ایک سال پہلے سرکار کی طرف سے نوٹیفیکشن جاری ہوتا ہے، جس کے دوران ہائی اسکولوں کے ٹیچروں کوایک فارم پُر کرکے اپنا نام درج کروانا ہوتا ہے، نام درج کرنے کی صورت میں وہ ان انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ رضامانوی کی مانیں تو بھٹکل کے تمام ٹیچروں کو اگر ووٹنگ کا اختیار ملتا ہے تو بھٹکل کے ٹیچرس کے ووٹ ہی اپنی پسند کےاُمیدوار کوجیت دلانے کے لئے کافی ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار تو الیکشن مکمل ہوچکے ہیں، لیکن اگلے انتخابات کے لئے ہائی اسکولوں کے ٹیچروں کو چاہئے وہ اپنے نام ووٹر لسٹ میں درج کرائیں، انہوں نے تمام ہائی اسکولوں کے ٹیچروں سے درخواست کی کہ اس طرف دلچسپی دکھائیں اور اپنے نام ووٹرلسٹ میں درج کرائیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سرکاری ہائی اسکول، پرائیویٹ ہائی اسکول اور سرکاری امداد والے ہائی اسکول، سبھی ٹیچرس اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔