اعظم گڑھ، 6/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)نیتا جی سبھاش چندر بوس کے معاون رہے کرنل نظام الدین کا پیر کی صبح چار بجے 117سال کی عمر میں یہاں انتقال ہو گیا، ان کے چھوٹے بیٹے محمد اکرم نے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے بیمار چل رہے تھے۔کرنل نظام الدین مبارکپور کے ڈھکوا گاؤں کے رہنے والے تھے، انہیں نیتا جی کا بے حد معتمد محافظ سمجھا جاتا تھا اور وہ پورے دس سالوں تک ان کے ساتھ اہم سرگرمیوں کے دوران ساتھ رہے۔کرنل نظام الدین کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مختلف ممالک کے حکمرانوں، فوجی سربراہوں اور خصوصی افراد کی نیتا جی سے ملاقات کے دوران ان کے ساتھ رہے، ان میں جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے مدد مانگنے کو لے کر نیتا جی نے ہٹلر سے ملاقات کی تھی، تب کرنل نظام الدین بھی ان کے ساتھ تھے، کرنل نظام الدین تقریبا 24-25سال کی عمر میں اپنی ماں کو بغیر بتائے گھر سے فرارہو کر سنگاپور چلے گئے تھے،وہیں کینٹین میں کام کرنے کے دوران انہیں آزاد ہند فوج کے لیے نوجوانوں کی بھرتی کی معلومات ملی اور اس کے بعد وہ اس فوج کا اہم حصہ بن گئے۔اس کے بعد انہوں نے ٹوکیو، جاپان، ناگاساکی، ہیروشیما، ویت نام، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ملیشیا کا دورہ بھی نیتا جی کے ساتھ کیا اور مختلف خفیہ منصوبوں کا حصہ رہے۔کرنل نظام الدین کے مطابق، 18/اگست 1945کو جس وقت نیتا جی کی موت کی خبر ریڈیو پر چلی، اسے وہ نیتا جی کے ساتھ ہی بیٹھ کر برما کے جنگل میں سن رہے تھے۔اس کے بعد انہوں نے 20/اگست 1947کو نیتا جی کو برما میں چھتانگ ندی کے پاس آخری بار کشتی پر چھوڑا تھا، اس کے بعد ان نیتا جی سے ملاقات نہیں ہوئی۔لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدواررہے نریندر مودی نے بھی کرنل کا پاؤں چھوکر ان کا آشیرواد لیا تھا۔