مینگلور 28/نومبر(ایس او نیوز) مینگلور عطّاور میں واقع ایک رہائشی عمارت کے ایک فلیٹ میں اچانک آگ لگ جانے سے بھٹکل کی ایک خاتون کی دم گھٹنے سے موت واقع ہوگئی، البتہ فوری طور پر باہر سے مدد پہنچنے کی وجہ سے گھر کے دیگر لوگ محفوظ رہ گئے۔ آگ لگنے کی واردات پیر اور منگل کی درمیانی شب قریب چار بجے پیش آئی۔
مہلوک کی شناخت بھٹکل حنیف آباد کے رہائشی جناب عبداللہ کولا کی زوجہ محترمہ زرینہ شاہین کولا (57) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
پتہ چلا ہے کہ مرحومہ زرینہ شاہین کولا ایک ہفتہ قبل ہی اپنے شوہر کے ساتھ علاج کی غرض سے دبئی سے مینگلور پہنچی تھی اور ایک پرائیویٹ اسپتال میں ایڈمٹ تھی، دو روز قبل ہی اسپتال سے ڈسچارج ہوکر اپنے شوہر اور دو بیٹیوں کے ساتھ اپنے داماد شایان دامودی کے مینگلور میں واقع رہائشی فلیٹ میں مقیم تھی۔
سترہ منزلہ والی عمارت کے بارہویں فلور پر جناب شایان دامودی کا فلیٹ ہے، شایان صاحب بھٹکل میں تھے، البتہ جناب عبداللہ کولا صاحب ا پنی اہلیہ اور دو دختران کےساتھ مینگلور فلیٹ میں تھے۔ رات کو اچانک فلیٹ کے ہال میں آگ لگ جانے سے تمام کمروں میں دھواں پھیلنے لگا، سمجھا جارہا ہے کہ اس وقت محترمہ شاہین باتھ روم میں تھی، جب دھواں پھیلا تو باتھ روم میں بھی دھواں بھر گیا جس کے نتیجے میں دم گھٹنے سے اُن کی وہیں موت واقع ہوگئی۔
پتہ چلا ہے کہ ان کی دُختر نے بھٹکل میں موجود اپنے شوہر شایان کو آگ لگنے کی اطلاع دی، چونکہ ہال میں آگ لگی ہوئی تھی پورا کمرہ دھویں سے بھر گیا تھا، لہٰذا سبھی لوگ فلیٹ کے اندر ہی پھنس گئے تھے اور ہال سے گذر کر باہر جانا ممکن نہیں تھا، لیکن شایان نے فوری اُسی رہائشی ٹاور میں موجود اپنے دوست احباب کو واقعے کو جانکاری دی ، جنہوں نے دوسری چابی کی مدد سے فلیٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے ہوئے فلیٹ کے اندر موجود تین لوگوں کو بحفاظت باہر نکال دیا۔ جبکہ زرینہ شاہین کولا صاحبہ کی اُس وقت تک موت واقع ہوچکی تھی۔
ان لوگوں کی مدد کو پہنچنے والوں میں سے ایک بھٹکل مسلم جماعت مینگلور کےسرگرم رکن فہد شاہ بندری، جو اسی رہائشی عمارت کے نچلے فلور میں رہتے ہیں، نے بتایا کہ جب انہوں نے کمرے کا دروازہ کھولا تو پورا ہال دھویں سے بھر ا ہوا تھا اور اندر گھسنا ممکن نظر نہیں آرہا تھا، لیکن ہم لوگ ہمت کرکے اندر داخل ہوئے، جناب عبداللہ صاحب ایک بیڈ روم میں بے ہوش پڑے ہوئے تھے، جبکہ دیگر دو خواتین اندر دوسرے کمرے میں پھنسی ہوئی تھیں، بڑی مشکل سے ہم نے سبھوں کو باہر نکالا۔ جناب عبداللہ صاحب کو اے جے اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا ہے، بہت زیادہ دھواں اندر جانے کی وجہ سے انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا ہے، البتہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ دیگر دوخواتین کو بھی اسپتال لے جاکر علاج کرایا گیا ہے۔
آگ لگنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہے، کسی نے بتایا تھا کہ موبائل کی بیٹری پھٹ جانے سے آگ لگی ہوگی، لیکن فہد صاحب نے بتایا کہ ہال میں کوئی موبائل نہیں تھا۔ہال میں رکھا ہوا اکوریم اور صوفہ سمیت دیگر فرنیچر جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ فہد نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی مدد پہنچنے سے پہلے ہی عمارت کے لوگوں نے آگ پر قابو پالیا تھا۔
مینگلور پولس تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا ہے، پولس مزید چھان بین کررہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کاغذی کاروائیوں کے بعد میت بھٹکل حنیف آباد لائی جائے گی ۔ بتاتے چلیں کہ اس رہائشی ٹاور میں 10/12 فلیٹس بھٹکل والوں کے ہیں۔