نئی دہلی، 21/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور مودی حکومت کی سب سے بڑی ناقدین میں سے ایک مہوا موئترا کے تعلق سے جو تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کی ہوا نکالتے ہوئے مہوا موئترا نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر نے زبردستی تاجر درشن ہیرانندنی سے کورے کاغذپر دستخط کرائے اور اس پر اپنی مرضی کی کہانی لکھتے ہوئے بعد میں `پریس میں لیک کردیا۔ موئترا نے اپنے ایکس ہینڈل پر دو صفحات کا بیان شیئر کیا جس میں پانچ سوالات پوچھےگئے ہیں۔ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ تین دن پہلے ہیرانندانی گروپ نے ایک آفیشیل پریس ریلیز جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مہوا پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹؍ اکتوبر کو ایک `توثیق کرنے والا حلف نامہ پریس کو لیک کیا گیا ہے۔ یہ `حلف نامہ ایک سفید کاغذ پر ہے، اس میں کوئی لیٹر ہیڈ نہیں ہے اور اس کی کوئی آفیشیل اصل نہیں ہے سوائے پریس لیک کے۔‘‘
سوالات اٹھاتے ہوئے مہوا نے مزید کہا کہ ’’ہیرانندنی کو ابھی تک سی بی آئی یا ایتھکس کمیٹی یا کسی تحقیقاتی ایجنسی نے طلب نہیں کیا ہے۔ پھر انہوں نے یہ حلف نامہ کس کو دیا ہے؟ حلف نامہ سفید کاغذ پر ہے نہ کہ سرکاری لیٹر ہیڈ یا نوٹرائزڈ پیپر پر۔ ہندوستان کا سب سے معزز یا پڑھا لکھا تاجر وائٹ پیپر پر اس طرح کے دستخط کیوں کرے گا، جب تک کہ اس کے سر پر بندوق نہ رکھی جائے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ خط کے مندرجات ایک ’مذاق‘ ہیں۔مہوا موئترا نے الزام لگایا کہ چونکہ وہ وزیر اعظم مودی ، اڈانی گروپ اور حکومت کی بدعنوانی اور ہٹ دھرمی کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتی رہتی ہیں اس لئے انہیں پارلیمنٹ سے باہر کرنے یا گرفتار کروانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ساتھ ہی ان کی شبیہ بھی خراب کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس معاملے میں مہوا نے دہلی ہائی کورٹ میں کیس بھی داخل کیا ہے۔ اس معاملے میں ہونے والی سماعت کے دوران مہوا کے وکیل کو سماعت سے ہٹنا پڑا کیوں کہ یہ بات سامنے آئی تھی کہ انہوں نے فریق مخالف سے رابطہ قائم کرکے انہیں کیس واپس لینے کی ترغیب دی تھی۔
واضح رہے کہ مہوا موئترا کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دبئی میں مقیم تاجر ہیرانندنی نے مبینہ طور پر یہ دعوے کئے ہیں کہ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ موئترا نے ضرورت پڑنے پر ان کی طرف سے براہ راست سوالات پوسٹ کرنے کیلئے انہیں اپنا پارلیمنٹ لاگ اِن اور پاس ورڈ فراہم کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ان سے سوالات پوچھنے کے لئے کیش بھی لیتی تھیں۔ ان تمام الزامات کی جانچ کے لئے لوک سبھا اسپیکر نے معاملے کو ایتھکس (ضابطہ اخلاق) کمیٹی کے پاس بھیج دیا ہے جس نے ابھی تک نہ مہوا کو کوئی نوٹس دیا ہے اور نہ درشن ہیرانندانی کو طلب کیا ہے۔ مہوا موئترا نے ضابطہ اخلاق کمیٹی پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ جان بوجھ کر معلومات لیک کررہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے کی جانب سے اسپیکر کے پاس شکایت درج کروانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
حالانکہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ ترنمول کانگریس کی تیز طرار لیڈر اور پارلیمنٹ میں اپنی تقریروں کی وجہ سے سرخیوں میں رہنے والی ممبر پارلیمنٹ مہوا موئتراکے خلاف جانچ کی ذمہ داری پارلیمنٹ کی ضابطہ اخلاق کمیٹی کو دیدی گئی ہے۔ تاہم اس پورے معاملے میں ان کی اپنی پارٹی ترنمول کانگریس نے خاموشی اختیار کرلی ہے اور دوری قائم کئے ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد سے ہی ترنمول کانگریس خاموش ہے۔ جمعرات کو یہ الزام مزید مضبوط اس وقت ہوگیا جب دبئی میں مقیم تاجر درشن ہیرانندانی نے دستخط شدہ حلف نامے میں مہوا اور ان کے رابطوںسے متعلق لگائے جارہے الزامات کو تسلیم کرلیا۔ اس کے بعد ترنمول کانگریس نے واضح کیا کہ پارٹی اس معاملے میں دخل نہیں دے گی۔ پارٹی کے ریاستی جنرل سیکریٹری اور ترجمان کنال گھوش نے کہاکہ مہوا کے معاملے میں ترنمول کا کوئی موقف نہیں ہے۔ پارٹی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔اس بحث کے آغاز سے ہی ترنمول احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ پارٹی لیڈر اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ دوسری طرف ضابطہ اخلاق کمیٹی نے اس معاملے میں بیان جاری کیا ہے کہ انہیں درشن ہیرا نندانی کا حلف نامہ موصول ہوا ہے۔ کمیٹی نے اس بات کا بھی جواب دیا ہے کہ یہ حلف نامہ کمیٹی نے اپنے لئے منگوایا تھا۔