ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہاراشٹرا میں مراٹھا ریزرویشن پر ہنگامہ، اراکین اسمبلی کی رہائش و دفتر میں توڑ پھوڑ

مہاراشٹرا میں مراٹھا ریزرویشن پر ہنگامہ، اراکین اسمبلی کی رہائش و دفتر میں توڑ پھوڑ

Mon, 30 Oct 2023 20:47:05    S.O. News Service

ممبئی 30/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) مراٹھا ریزرویشن  کی تحریک پیر کو پرتشدد ہو گئی اور  مظاہرین نے  بیڑھ میں   عوامی نمائندوں کے مکانات اور دفاتر کو نشانہ بنایا ۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق کئی دفاتر کو  نذر آتش  بھی کیا گیا یہاں تک کہ مظاہرین نے ریاستی ٹرانسپورٹ کی بسوں کو بھی  نشانہ بنایا۔ بتایا گیا ہے کہ  سڑکوں پر ٹائر جلائے اور ٹریفک کو روکنے  اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر پتھراؤ کرنے کی بھی وارداتیں پیش آئی ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق  این سی پی رکن اسمبلی (اجیت پوار گروپ) پرکاش سولنکے کی رہائش کو بھی مظاہرین  نے  نذر آتش کر دیا اور گنگاپور میں بی جے پی رکن اسمبلی پرشانت بامب کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ اتنا ہی نہیں، مظاہرہ کر رہے لوگوں کے ایک گروپ نے نگرپالیکا پریشد بھون کی پہلی منزل کو بھی آگ کے حوالے کر دیا۔ آتشزدگی اور توڑ پھوڑ کے معاملات نے ریاست میں حالات کشیدہ کر دیے ہیں۔

 پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق  مراٹھا طبقہ کے لیے ریزرویشن کے مطالبہ کو لے کر مہاراشٹرا کے جالنہ میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن منوج جرانگے سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنا ہیلتھ ٹیسٹ کرائیں، لیکن انھوں نے اپنی جانچ کرانے سے انکار کر دیا ہے۔ جالنہ کے کارگزار سول سرجن ڈاکٹر پرتاپ گھوڈکے کا اس تعلق سے کہنا ہے کہ طویل مدت تک کھانا نہ کھانے سے ان کی جسم کے ضروری اعضا اور صحت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود منوج جرانگے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کو تیار  نہیں ہیں۔

اس پورے معاملے میں  سابق وزیر اعلیٰ شرد پوار کی بیٹی اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے ایکناتھ شندے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، کیونکہ وہ حالات کو قابو میں کرنے میں ناکام ہیں۔ سپریا نے کہا کہ ’’مہاراشٹرا مشکل میں ہے۔ بی جے پی کی اتحادی حکومت سے مہاراشٹرا سنبھل نہیں رہا ہے۔ ان کے مطابق  مہاراشٹر احکومت کو کل جماعتی میٹنگ بلانی چاہیے، لیکن وہ خاموش ہیں۔ سپریا سولے نے کہا کہ  ریاست میں اراکین اسمبلی تک  محفوظ نہیں ہیں اور ان کی رہائش کو مظاہرین آگ کے حوالے کر رہے ہیں۔‘‘

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان کا کہنا ہے کہ منوج جرانگے پاٹل کی حالت سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں گورنر رمیش بیس کو از خود نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر کی حالت سے مرکزی حکومت کو مطلع کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ 1 کروڑ 72 لاکھ لوگوں کے دستاویز دیکھنے کے بعد صرف 11 ہزار 530 لوگوں کو سرٹیفکیٹ ملتا ہے۔ اس سے مراٹھا طبقہ کے مسئلہ کا حل نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے آج کچھ سیاسی بیانات دیے، حالانکہ انھیں بغیر سیاسی بیان بازی کیے موجودہ حالات کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

اس درمیان کانگریس، شیوسینا یو بی ٹی اور این سی پی (شرد پوار) اتحاد یعنی مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے نمائندہ وفد نے گورنر رمیش بیس سے ملاقات کی۔ ایم وی اے نے گورنر سے مراٹھا ریزرویشن کو لے کر ہو رہی تحریک پر کوئی مناسب راستہ تلاش کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس ملاقات میں کانگریس لیڈر نانا پٹولے، اشوک چوہان اور ابھجیت ونجاری سمیت کئی لیڈران موجود تھے۔ اس نمائندہ وفد نے مطالبہ کیا ہے کہ گورنر رمیش بیس صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی سے اس بارے میں بات کریں۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اس معاملے میں کہا کہ مراٹھا طبقہ کو ریزرویشن دینے سے متعلق تشکیل کمیٹی نے اپنی رپورٹ ہمیں سونپ دی ہے، کل ہم اسے کابینہ میں پیش کریں گے۔ حتمی رپورٹ سونپنے کے لیے 2 مہینے کی توسیع کی گئی ہے۔ سونپی گئی پہلی رپورٹ میں ایک لاکھ سے  زیادہ مراٹھوں کی شناخت جائز ثبوتوں کے ساتھ کی گئی ہے۔ انھیں ریزرویشن دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ایکناتھ شندے نے مزید کہا کہ ہم کل منوج جرانگے پاٹل کے نمائندہ کے ساتھ آگے کی گفتگو کو لے کر سَب کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کریں گے۔ ہم ڈویژنل کمشنر کے ذریعہ سے منوج جرانگے پاٹل کو اس سلسلے میں پیغام بھیجیں گے۔


Share: